پنجاب میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جدید گندم سائلوز قائم کیے جائیں گے،امجد حفیظ

پنجاب حکومت گندم ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی جامع سکیم پر تیزی سے عمل کر رہی ہےجس کا مقصد فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، سپلائی چین کی بہتری اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

لاہور۔20جولائی (اے پی پی):پنجاب حکومت گندم ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی جامع سکیم پر تیزی سے عمل کر رہی ہےجس کا مقصد فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی، سپلائی چین کی بہتری اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل فوڈ پنجاب امجد حفیظ نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت جدید گندم سائلوز کے قیام پر کام جاری ہے جس سے طویل مدت تک گندم محفوظ رکھنے، فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کم کرنے اور سپلائی چین کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پی پی پی ماڈل کے تحت زرعی فارموں پر بھی سائلوز کے قیام کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے تاکہ کسانوں کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو، وہ اپنی گندم محفوظ طریقے سے ذخیرہ کر سکیں، فوری فروخت کی مجبوری سے بچیں اور اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کر سکیں۔امجد حفیظ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 20 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان میں گندم ذخیرہ کرنے کی 2 سے 2.5 کروڑ میٹرک ٹن کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام سے کسان اپنی پیداوار کی ملکیت برقرار رکھنے کے قابل ہوں گے، فصل کٹائی کے بعد تقریباً 30 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے ضیاع کو روکا جا سکے گا اور سالانہ تقریباً 28 کروڑ 90 لاکھ امریکی ڈالر کی اضافی معاشی قدر پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان میں گندم مختلف اشکال میں استعمال کی جاتی ہے جن میں آٹا، میدہ، سوجی، فورٹیفائیڈ آٹا، نشاستہ، ناشتے میں استعمال ہونے والے سیریلز اور دلیہ شامل ہیں۔صوبے میں گندم کے ذخائر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے امجد حفیظ نے کہا کہ پنجاب کے پاس موجود ذخائر آئندہ سال اپریل میں موجودہ گندم سال کے اختتام تک صوبائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں رواں سال تقریباً 2 کروڑ 19 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن گندم پیدا ہوئی جبکہ سالانہ مقامی ضرورت تقریباً ایک کروڑ 65 لاکھ میٹرک ٹن ہے جس کے نتیجے میں تقریباً 54 لاکھ 10 ہزار میٹرک ٹن اضافی گندم دستیاب ہے۔ان کے مطابق یہ اضافی ذخیرہ گندم کی بلا تعطل فراہمی، بین الصوبائی ضروریات پوری کرنے، مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔امجد حفیظ نے کہا کہ سرکاری ذخائر سے گندم مرحلہ وار اور منظم انداز میں جاری کی جائے گی تاکہ فلور ملوں کو مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے، اس حکمت عملی کا مقصد مارکیٹ میں آٹے کی مناسب دستیابی برقرار رکھنا اور آٹے اور روٹی کی قیمتوں کو مستحکم اور عوام کی استطاعت کے مطابق رکھنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو)بھی رواں ماہ پنجاب کو گندم کی ترسیل شروع کرے گی جس کا شیڈول صوبے کے سپلائی مینجمنٹ پلان کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے تاکہ گندم کی روانی اور ذخائر کی مسلسل دستیابی برقرار رہے۔امجد حفیظ نے کہا کہ حکومت گندم، آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں بلاجواز اضافے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی کیونکہ یہ بنیادی غذائی اشیا خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ میں رہنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ذخائر سے گندم کی فراہمی مربوط حکمت عملی کے تحت جاری رہے گی، مارکیٹ کی قیمتوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ذخیرہ اندوزی یا گندم کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب فلور مل مالکان نے سرکاری ذخائر سے گندم جاری کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ عاصم احمد رضا نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "10 کلوگرام آٹے کے تھیلے کی قیمت حکومت کی مقررہ نرخوں کے مطابق رہی ہے، تاہم مسئلہ 15 کلوگرام کے تھیلے کا تھا جو اوپن مارکیٹ سے خریدی گئی گندم سے تیار کیا جاتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ سرکاری گوداموں سے گندم کے اجرا کے بعد آٹے کی قیمتوں میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں روٹی اور نان کی قیمتیں بھی کم ہونے کی توقع ہے۔