چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کی پاکستانی ممبر یونیورسٹیوں کا اجلاس
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کی پاکستانی ممبر یونیورسٹیوں کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔29جولائی (اے پی پی):چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کی پاکستانی ممبر یونیورسٹیوں کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور پاک -چین تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے مستقبل کی ترجیحات کی نشاندہی کی گئی۔ اجلاس میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی ڈاکٹر ضیاء الحق، ایچ ای سی کی سینئر انتظامیہ اور پاکستان بھر کی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز/ریکٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل (گلوبل انگیجمنٹ/سی پیک یونٹ) ایچ ای سی عائشہ اکرام نے کنسورشیم کی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 2017 میں اپنے قیام کے بعد سے اس کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے اور اب اس میں 93 پاکستانی اور 40 چینی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔
انہوں نے نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں چھ ‘چائنا سٹڈی سینٹرز’ کا قیام، مشترکہ تحقیقی گرانٹس، فیکلٹی اور طلبہ کے تبادلے، تربیت و صلاحیت سازی کے پروگرام اور پاکستان و چین کے درمیان ادارہ جاتی روابط کا فروغ شامل ہیں۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو چینی ہم منصبوں کے ساتھ اپنی مصروفیات میں زیادہ فعال، نتائج پر مبنی نقطہ نظر اپنانا چاہئے۔ اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران موصول ہونے والے تاثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ برسوں کے دوران قابل ذکر تعداد میں مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ہیں، ان معاہدوں کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لئے زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
چیئرمین ایچ ای سی نے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، مربوط سرکٹس، بائیو ٹیکنالوجی، صحت عامہ، سائبر سکیورٹی، زراعت، گرین ٹیکنالوجیز اور ابھرتی ہوئی صنعتوں میں تعاون کی نئی راہوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور جدت طرازی میں چین کی نمایاں پیشرفت پاکستان کے لئے قابل قدر اسباق پیش کرتی ہے اور یونیورسٹیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چینی اداروں کے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے دستیاب مواقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کریں۔پاکستان اور چین کی تعلیمی شراکت داری کو مؤثر تعاون میں تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔








