"153 کلومیٹر طویل چترال، بونی، مستوج، شندور شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ منصوبے کے لیے مالی سال 2026-27 میں 4 ارب 20 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔”
چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جولائی (اے پی پی):153 کلومیٹر طویل چترال-بونی-مستوج-شندور شاہراہ کے چاروں پیکیجز دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس مقصد کے لئے مالی سال 2026-27 میں 4 ارب 20 کروڑ روپے درکار ہوں گے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق چترال کو پریت، بونی، مستوج اور شیداس کے راستے شندور سے ملانے والی شاہراہ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔دستاویزات کے مطابق مئی 2020 میں اس سڑک کو وفاق کے ماتحت لانے کے بعد اسے قومی شاہراہ این-140 کا درجہ دیا گیا اور منصوبے کو چار تعمیراتی پیکیجز میں تقسیم کر کے کام شروع کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق اب تک اس منصوبے پر 6 ارب 59 کروڑ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران منصوبے کے لئے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے تاہم اسی سال مزید 5 ارب 50 کروڑ روپے کی ضرورت پیش آئی۔پہلا پیکیج ضلع لوئر چترال میں چترال سے پریت تک 38.965 کلومیٹر طویل ہے۔ نومبر 2021 میں شروع ہونے والے اس حصے پر اب تک 47.54 فیصد تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے جو چاروں پیکیجز میں سب سے زیادہ پیش رفت رکھنے والا حصہ ہے۔اس پیکیج کی ابتدائی لاگت 2 ارب 67 کروڑ روپے تھی جسے بعد میں بڑھا کر 2 ارب 74 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس کی اصل تکمیل کی تاریخ نومبر 2023 تھی تاہم اب اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق دوسرا پیکیج لوئر چترال میں پریت سے بونی تک 39.723 کلومیٹر پر مشتمل ہے جہاں نومبر 2021 سے جاری کام میں اب تک 34.77 فیصد جسمانی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔ اس پیکیج کی لاگت 2 ارب 83 کروڑ روپے سے کم کر کے 2 ارب 81 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔ اس کی اصل تکمیل نومبر 2023 میں ہونا تھی تاہم اب اس کی نئی ہدفی تاریخ دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔تیسرا پیکیج ضلع اپر چترال میں بونی سے شیداس تک 36.14 کلومیٹر طویل ہے۔ اس حصے پر اب تک 38.16 فیصد جسمانی پیش رفت ہوئی ہے۔ تعمیراتی کام نومبر 2021 میں شروع ہوا تھا، جبکہ اس کی لاگت 2 ارب 55 کروڑ روپے سے بڑھا کر 2 ارب 61 کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔اس پیکیج کی اصل تکمیل کی تاریخ بھی نومبر 2023 تھی تاہم اب اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔چوتھا پیکیج ضلع اپر چترال میں شیداس سے شندور تک 37.782 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس حصے پر اگست 2022 میں تعمیراتی کام شروع ہوا اور اب تک 29.78 فیصد جسمانی پیشرفت حاصل کی جا چکی ہے۔اس پیکیج کی ابتدائی لاگت 2 ارب 87 کروڑ روپے تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 2 ارب 93 کروڑ روپے کر دیا گیا۔ اس کی اصل تکمیل اگست 2024 میں ہونا تھی تاہم اب اس کی نئی ہدفی تاریخ دسمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔








