واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانہ میں یوم استحصال کے موقع پر خصوصی ویبنار کا انعقاد

شنگٹن۔6اگست (اے پی پی):واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانہ میں یوم استحصال کے موقع پر خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔

واشنگٹن۔6اگست (اے پی پی):واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانہ میں یوم استحصال کے موقع پر خصوصی ویبنار کا انعقاد کیا گیا۔

ویبنار کا موضوع ”جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجز: مسئلہ جموں و کشمیر اور معاہدہ سندھ طاس تھا۔ ویبنار کا آغاز صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات سے کیا گیا جس میں کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ویبنار سے ڈاکٹر فرحان مجاہد سیکرٹری جنرل کشمیر سیویٹاس، علی عنار صدر فاؤنڈیشن فار امریکن سکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی، ڈاکٹر قمر چیمہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر صنوبر انسٹی ٹیوٹ اور سفیر منیر اکرم نے خطاب کیا۔ ویبنار میں مقررین اور کشمیری نمائندوں نے آرٹیکل 370 اور 35 ۔اے کی غیر قانونی منسوخی کے پسں پردہ بھارت کے مذموم عزائم پر روشنی ڈالی۔ ویبنار میں بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے مضمرات کا جائزہ لیا گیا۔

شرکاء کی جانب سے جنوبی ایشیا میں بھارت کی پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی کی بھی شدید مذمت کی گئی۔

اس موقع پر پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات بشمول آبادی کے تناسب کی تبدیلی کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے متصادم اور کشمیرکی روح کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج سات سال کے بعد بھی مقبوضہ کشمیر میں معاشی دباؤ، سیاسی جبر ، عسکریت پسندی ، آبادیاتی تبدیلی اور بنیادی حقوق کی مسلسل پامالی نے بھارتی غیر قانونی تسلط کے خلاف کشمیریوں کی عوامی مزاحمت کو مضبوط اور فعال کیا۔

پاکستان کے سفیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خلاف اپنے کشمیری بہنوں اور بھائیوں کی حمایت میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر بھر پور انداز میں اُٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی قانونی اور آبادیاتی ساخت اور حیثیت تبدیل کررہا ہے جس کا پرامن حل صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد سے ہی ممکن ہے۔سفیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست کا بنیادی تنازعہ ہے، اس کے پُر امن حل سے علاقائی امن اور سلامتی پر گہرے اثرات مُرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک بہترین معاہدہ ہے جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن قائم کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔

پاکستان کے سفیر نے کہا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور لا قانونیت کے تسلسل نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈالا ہے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ تو مقبوضہ کشمیر کی قانونی حیثیت کو تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے عزم کو متزلزل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار اورمنصفانہ امن کا قیام تنازعہ جموں و کشمیر کے پُر امن حل سے منسلک ہے۔ ویبنار سے ماہرین ، دانشوروں اور سرکردہ کمیونٹی رہنماوں نے بھی خطاب کیا اور کشمیر ی عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔ ڈاکٹر فرحان مجاہد نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم طریقے سے آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں کررہا ہے تاکہ مستقبل میں رائے شماری کے نتائج پر اثر انداز ہوسکے۔

ڈاکٹر قمر چیمہ نے اِس امر پر زور دیا کہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں، بھارتی آبی جارحیت درحقیقت بین الاقوامی سندھ طاس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ تجزیہ کار اور ماہرِ بین الاقوامی امور علی عنار نے کہا کہ بین الاقوامی قوائد و ضوابط کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر منیر اکرم نے کہا کہ چاہے وہ جموں و کشمیر میں سلامتی کونسل کی قرارداوں کے مطابق رائے شماری ہو یا سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ہو، بھارت بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی بین الاقوامی قانون شکنی کا رحجان بڑھتا جارہا ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ ویبنار کے شرکاء نے بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور لا قانونیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کے ضمن میں قابل عمل تجاویز پیش کیں۔ مقررین اور شرکا ء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آج پاکستان کو مثبت سفارتکاری کی موجودہ پیشرفت کو آگے بڑھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی کے معاملے کے حل کیلئے بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ اس موقع پر مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور اس دیرینہ تنازعہ کے منصفانہ حل کے لئے اپنا موثر کردار ادا کریں۔