معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اور کالم نگار ادریس آزاد کی سالگرہ جمعہ 7 اگست کو منائی گئی۔ انھوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے
معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار ، کالم نگار ادریس آزاد کی سالگرہ جمعہ کو منائی گئی
اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اور کالم نگار ادریس آزاد کی سالگرہ جمعہ 7 اگست کو منائی گئی۔ انھوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا پیدائشی نام ادریس احمدہے لیکن اپنے قلمی نام ادریس آزاد کے نام سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔بطور شاعر انھوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ادریس آزاد 7 اگست 1969 کو خوشاب میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور ہے فلسفے کی ڈگری حاصل کی۔ادریس آزاد نے اپنی پہلی نظم پرائمری سکول کے دور میں تحریر کی۔ اردو مجلس۔ جوہرآباد کے تحت انھوں نے اپنے ادبی ذوق کو جلا دی، پھر گورنمنٹ کالج سرگودھا کے ادبی ماحول سے استفادہ کیا۔ بعد ازاں لاہور کے ادبی حلقوں اور خصوصاً اسلام آباد کے ادبی حلقوں سے مستفید ہوئے۔
ان کی ادبی شناخت بطور ناول نگار، افسانہ نگار، شاعر اور نثر نگار ہے۔ غیر افسانوی کتب بھی منصہ ء شہود پر آچکی ہیں۔ادریس آزاد رجعت پسند، آئیڈئیلسٹ فلسفی ہیں ۔ان کا سب سے اہم کام بائیوسوشائیلوجی پر ہے۔ ان کی معروف تصانیف میں عورت، ابلیس اور خدا،موسیقی، تصویر اور شراب،اسلام مغرب کے کٹہرے میں،تصوف، سائنس اور اقبالؒ،سلطان محمد فاتحؒ ،ابنِ عطاش،سلطان شمس الدین التمش،بحراَسود کے اُس پار،اُندلس کے قزاق،نئی صلیبی جنگ اور اسامه ،بازگشت،ابن مریم ھوا کرے کوئی،منشیات اور تدارک اور نجات کے راستے پر شامل ہیں۔ ادریس آزاد کی سالگرہ کے موقع پر علمی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔









