راولپنڈی ،ہولی فیملی ہسپتال میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، ویکسین پر اعتماد اور ویکسینیشن کی اہمیت پر زور دیا گیا

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا گیا۔ ہسپتال کی ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (اے ایم ایس) ڈاکٹر رانا ستار نے نوجوان ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے آگاہی و معلوماتی سیشن کی قیادت کی

راولپنڈی۔ 07 اگست (اے پی پی):ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا افتتاح کر دیا گیا۔ ہسپتال کی ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (اے ایم ایس) ڈاکٹر رانا ستار نے نوجوان ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے لیے آگاہی و معلوماتی سیشن کی قیادت کی، جس میں والدین کے تحفظات دور کرنے، ویکسین پر اعتماد کو فروغ دینے اور بچوں کو بار بار پولیو ویکسین پلانے کی اہمیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ڈاکٹر رانا ستار نے شرکاء کو بتایا کہ پولیو سے بچاؤ کے لیے بار بار پولیو ویکسین کی خوراک دینا انتہائی اہم ہے کیونکہ ہر اضافی خوراک بچے کی قوتِ مدافعت کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پولیو ویکسین آنتوں میں وائرس کے خلاف مضبوط مدافعت پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے، جہاں پولیو وائرس افزائش پاتا ہے، اور بار بار ویکسینیشن سے بچے کو وائرس کے خلاف مزید مؤثر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ والدین کو بچوں کو متعدد مرتبہ پولیو کے قطرے پلائے جانے پر تشویش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ہر خوراک بچے کے تحفظ میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے اور بار بار ویکسینیشن بچوں کو اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھنے اور معاشرے میں مجموعی قوتِ مدافعت بلند رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ڈاکٹر رانا ستار نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہمات کے دوران ویکسینیشن معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کی خدمات کا متبادل نہیں بلکہ ان کا اہم تکمیلی حصہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ اگر ان کے بچے کو معمول کی ویکسینیشن کے تحت پولیو ویکسین دی جا چکی ہو تب بھی مہم کے دوران پولیو ٹیموں کو قطرے پلانے کی اجازت دیں۔انہوں نے کہا، “والدین ہر مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔

ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہے اور بچوں میں پولیو وائرس کے خلاف مضبوط مدافعت برقرار رہے۔”آگاہی سیشن کے دوران نوجوان ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے اے ایم ایس سے پولیو وائرس کی نگرانی، موجودہ وبائی صورتحال، ملک میں وائرس کی منتقلی روکنے کی پیش رفت اور ان علاقوں کو وائرس کی ممکنہ منتقلی سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے حوالے سے سوالات کیے۔شرکاء نے اس امر پر بھی گفتگو کی کہ ڈاکٹرز اور ہسپتال کا عملہ پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں کس طرح مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس حوالے سے ویکسین پر اعتماد کو فروغ دینے، غلط معلومات اور افواہوں کا تدارک کرنے، والدین کی مؤثر رہنمائی، بچوں کی ویکسینیشن کی حوصلہ افزائی اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کے فروغ کو اہم قرار دیا گیا۔پنجاب میں 2026 کے دوران اب تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پاکستان کے دیگر علاقوں اور خطے میں پولیو وائرس کی موجودگی کے باعث وائرس کی ممکنہ منتقلی کا خطرہ برقرار ہے۔ اس لیے بچوں میں قوتِ مدافعت کی بلند سطح برقرار رکھنا پولیو سے حاصل ہونے والی پیش رفت کے تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔سیشن کے اختتام پر ہولی فیملی ہسپتال میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر خصوصی مہم کا باضابطہ آغاز کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ مہم کے دوران ہر اہل بچے کو پولیو ویکسین کی خوراک ضرور دی جائے گی۔