سندھ حکومت نے 24 گھنٹے فعال مون سون اور سیلاب مانیٹرنگ نظام شروع کر دیا

سندھ حکومت نے مون سون کنٹیجنسی پلان 2026 کے تحت مون سون اور سیلاب کی نگرانی کا نظام شروع کر دیا ہے، جس کے ذریعے پورے مون سون سیزن کے دوران صوبے بھر میں بارشوں

اسلام آباد۔7اگست (اے پی پی):سندھ حکومت نے مون سون کنٹیجنسی پلان 2026 کے تحت مون سون اور سیلاب کی نگرانی کا نظام شروع کر دیا ہے، جس کے ذریعے پورے مون سون سیزن کے دوران صوبے بھر میں بارشوں، دریاؤں کے بہاؤ اور ممکنہ سیلابی خطرات کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کی منظوری محکمہ آبپاشی نے دی ہے اور اسے صوبے بھر میں سالانہ فلڈ مینجمنٹ حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق محکمہ آبپاشی ہر سال مون سون کے آغاز سے قبل ایک جامع کنٹیجنسی پلان تیار اور جاری کرتا ہے تاکہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بروقت رابطہ کاری اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت محکمہ آبپاشی نے گزشتہ ماہ کراچی میں ڈائریکٹر ریگولیشن کے دفتر میں مون سون اینڈ فلڈ مانیٹرنگ سیل قائم کیا، جو پورے مون سون سیزن کے دوران 24 گھنٹے فعال رہے گا اور موسمی و آبی صورتحال کی مسلسل نگرانی کرے گا۔دستاویزات کے مطابق مانیٹرنگ سیل کو موجودہ مون سون کی صورتحال، بارشوں، ممکنہ سیلاب، دریاؤں کے بہاؤ، پانی کے اخراج اور سندھ بھر میں آبی حالات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔مرکزی نگرانی کا یہ نظام ہنگامی حالات میں تیز رفتار فیصلہ سازی اور مختلف فیلڈ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری میں معاون ثابت ہوگا۔دستاویزات کے مطابق یہ کنٹیجنسی فریم ورک سندھ کی مجموعی فلڈ مینجمنٹ حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد حقیقی وقت میں نگرانی اور بروقت معلومات کی فراہمی کے ذریعے قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانا اور شدید بارشوں اور سیلاب کے ممکنہ نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے۔

دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ اس ادارہ جاتی نظام کا مقصد متعلقہ اداروں کی عملی تیاری کو مضبوط بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ مون سون 2026 کے دوران کسی بھی ممکنہ سیلابی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں۔