نئے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایمیزون کا ٹیکساس میں بڑے نجی گیس پاور پلانٹ کا منصوبہ

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے تصدیق کی ہے کہ وہ ریاست ٹیکساس میں ایک بڑے نجی گیس پاور پلانٹ کی مالی معاونت کر رہی ہے، جو مکمل ہونے کے بعد امریکا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا واحد ذریعہ بن سکتا ہے۔

واشنگٹن ۔8اگست (اے پی پی):امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون نے تصدیق کی ہے کہ وہ ریاست ٹیکساس میں ایک بڑے نجی گیس پاور پلانٹ کی مالی معاونت کر رہی ہے، جو مکمل ہونے کے بعد امریکا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سب سے بڑا واحد ذریعہ بن سکتا ہے۔

بنگلہ دیشی نیو زایجنسی بی ایس ایس کے مطابق یہ پیش رفت ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز کو جلد فعال کرنے کے مقصد سے بجلی کے قومی گرڈ سے ہٹ کر اپنے توانائی کے ذرائع قائم کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی تازہ مثال ہے۔مارکیٹ انٹیلی جنس کمپنی کلین ویو نے سب سے پہلے اس منصوبے کی اطلاع دی۔ کمپنی نے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لے کر ایمیزون کی جانب سے رواں ہفتے دائر کیے گئے تین ڈیٹا سینٹر تعمیراتی اجازت ناموں کو پیسیفیکو انرجی کے زیرِ تعمیر گیس پلانٹ سے جوڑا، جسے جی ڈبلیو رینچ کے نام سے جانا جاتا ہے۔پہلے سے دائر کیے گئے اجازت ناموں کے مطابق اس پلانٹ میں 35 ٹربائنز نصب ہوں گی اور اس کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 7.65 گیگاواٹ ہوگی، جو اس وقت امریکا میں کام کرنے والے کسی بھی گیس پاور پلانٹ سے زیادہ ہے۔اس سے بھی بڑے 9.2 گیگاواٹ کے ایک پلانٹ کا منصوبہ اوہائیو میں بنایا جا رہا ہے، جس میں سافٹ بینک سمیت سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری شامل ہے۔ یہ پلانٹ بجلی کے قومی گرڈ سے منسلک ہونے کے ساتھ ایک ڈیٹا سینٹر کو بھی بجلی فراہم کرے گا۔

ٹیکساس کے پیکوس کاؤنٹی میں قائم کیے جانے والے پلانٹ کو سالانہ 3 کروڑ میٹرک ٹن سے زائد گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی اجازت دی جا سکتی ہے، جو ملک میں کسی بھی ایک ذریعے کے لیے سب سے زیادہ مقدار ہوگی، تاہم عام طور پر پلانٹس اپنی مقررہ زیادہ سے زیادہ اخراج کی حد تک نہیں پہنچتے۔ایمیزون نے کہا کہ اپنی بجلی خود پیدا کرنے سے وہ اس کی لاگت عام امریکی صارفین پر منتقل کرنے سے بچ سکے گی، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کے باعث نئی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی لاگت بجلی کے صارفین کے بلوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ایمیزون کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اپنی سرگرمیوں کے لیے درکار بجلی کی مکمل لاگت خود برداشت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پیکوس کاؤنٹی میں مجوزہ نیا ڈیٹا سینٹر کیمپس نئے آن سائٹ پاور پلانٹ سے بجلی حاصل کرے گا، جس سے ٹیکساس کے خاندانوں کے بجلی کے اخراجات میں اضافہ نہیں ہوگا، جبکہ گرڈ سے منسلک ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہی اسے قومی بجلی کے نظام سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ وہ اس مقام پر شمسی توانائی اور بیٹری سٹوریج کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور ایسی زیرِ زمین کھاری پانی کی سطح استعمال کرے گی جو پینے کے قابل نہیں، تاکہ آبی وسائل پر اضافی دباؤ نہ بڑھے۔ایمیزون نے کہا کہ وہ کلائمیٹ پلیج کے تحت 2040 تک کاربن کے خالص صفر اخراج کے ہدف کے لیے پرعزم ہے اور ٹیکساس میں مجموعی طور پر تقریباً 10 گیگاواٹ کی صلاحیت رکھنے والے 40 کاربن فری توانائی منصوبوں کو فعال کر چکی ہے۔ڈیٹا سینٹرز کو براہِ راست بجلی فراہم کرنے کے لیے نام نہاد بہائنڈ دی میٹر پاور پلانٹس کا استعمال پہلے محدود پیمانے پر ہوتا تھا۔ اس کی ایک مثال ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کی جانب سے 2024 میں میمفس کے ڈیٹا سینٹر کے لیے موبائل گیس ٹربائنز کی تنصیب ہے۔کلین ویو کی تحقیق کے مطابق اس وقت تقریباً 2 گیگاواٹ کی بہائنڈ دی میٹر بجلی آن لائن ہے، جس میں زیادہ تر حصہ ایکس اے آئی کا ہے، جبکہ تقریباً 97 گیگاواٹ کے ایسے منصوبے زیرِ غور یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔ ان میں میٹا، مائیکروسافٹ اور اوریکل سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منصوبے شامل ہیں، جن کے ماحولیاتی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان منصوبوں سے مجموعی کاربن اخراج کا درست اندازہ اس بات پر منحصر ہے کہ کتنے پلانٹس تعمیر ہوتے ہیں، ٹربائنز کتنی موثر ہیں اور انہیں کتنی دیر تک چلایا جاتا ہے، تاہم سالانہ اخراج 20 کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد گاڑیوں کے سالانہ اخراج یا تقریباً پاکستان کے مجموعی سالانہ کاربن اخراج کے برابر ہے۔یونین آف کنسرنڈ سائنٹسٹس کے توانائی کے تجزیہ کار جان راجرز نے کہا کہ گیس کے استعمال کے زیادہ موثر طریقے موجود ہیں، تاہم ان میں سے تقریباً کوئی بھی منصوبہ ان طریقوں کو اختیار کرنے کی تجویز نہیں دے رہا، جو مقامی فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی دونوں کے حوالے سے اہم ہے۔اگرچہ گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس کوئلے کے مقابلے میں کم آلودگی پھیلاتے ہیں، تاہم وہ اب بھی عالمی حدت کا باعث بننے والی گیسوں کے اہم ذرائع ہیں۔ گیس کی پیداوار اور ترسیل کے دوران میتھین کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو قدرتی گیس کا بنیادی جزو اور ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے۔گیس پاور پلانٹس سے کاربن اخراج کے علاوہ باریک ذرات بھی خارج ہوتے ہیں جو دل اور پھیپھڑوں کی مختلف بیماریوں سے منسلک ہیں، جبکہ نائٹروجن آکسائیڈز سانس کی بیماریوں کو بڑھا سکتے ہیں۔ ان پلانٹس سے پارہ، فارمل ڈی ہائیڈ اور بینزین سمیت دیگر مضر صحت فضائی آلودگی بھی خارج ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں