سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور ورلڈ وائیڈ مین پاور ریسورسز (ڈبلیو ایم آر) نے زرعی فضلے کو کارآمد بنا کر کیلے کے فائبر سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے
کیلے کے فائبر سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کیلئے سندھ زرعی یونیورسٹی اور ورلڈ وائیڈ مین پاور ریسورسز میں تعاون پر اتفاق

مزید خبریں
حیدرآباد۔ 09 ستمبر (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور ورلڈ وائیڈ مین پاور ریسورسز (ڈبلیو ایم آر) نے زرعی فضلے کو کارآمد بنا کر کیلے کے فائبر سے ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ایم آر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور نادرا کے سابق ڈائریکٹر جنرل احتشام شاہد نےزرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کیلے کے فائبر ایکسٹریکشن یونٹ اور انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں جاری تحقیق اور عملی کام کا جائزہ لیا۔
دورے کا اہتمام اورک کی ایڈوائزر،ڈائریکٹر ڈاکٹر آسیہ اکبر پنہور نے کیا۔اس موقع پر ڈین فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر اور ڈاکٹر شوکت علی ابڑو سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے کیلے کے فائبر ٹیکنالوجی کے پائلٹ منصوبے شروع کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر نے کہا کہ کیلے کی کاشت کو صرف پھل کی پیداوار تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، کیونکہ پودے اور اس کے باقی ماندہ حصے صنعتی خام مال کا اہم ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیلے کے فائبر کی ٹیکنالوجی زرعی فضلے کو معاشی وسائل میں تبدیل کرنے، نئی صنعتوں کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
احتشام شاہد نے یونیورسٹی کی تحقیق کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیلے کے فائبر میں ملکی و عالمی منڈیوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، نجی شعبے اور سرمایہ کاروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ڈاکٹر آسیہ پنہور نے کہا کہ اورک تحقیق کو صنعتی اور تجارتی سطح پر منتقل کرنے کے لیے مقامی و بین الاقوامی اداروں سے روابط قائم کر رہا ہے، جبکہ کیلے کے فائبر کی ٹیکنالوجی زرعی فضلے کے بہتر استعمال، پائیدار زراعت اور مقامی روزگار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔








