پاکستان سمیت دیگر ممالک کا مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں متعارف کرانے کے برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم

پاکستان سمیت دیگر ممالک کا مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں متعارف کرانے کے برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم

اسلام آباد۔9ستمبر (اے پی پی):پاکستان سمیت ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں متعارف کرانے کے برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور ایسی بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں متعارف کرانے کے برطانوی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔وزرائے خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اسی نوعیت کے اقدامات کرنے اور غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں میں ملوث آبادکاری کی تنظیموں اور افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے متحرک کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔وزرائے خارجہ نے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ دو ریاستی حل سے متعلق مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا، جس میں انہوں نے اس عزم کی تصدیق کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ اشیا کی تجارت پر قومی سطح پر پابندیاں عائد کریں گے اور/یا یورپی پابندیوں کی حمایت کریں گے، یا اپنے اپنے قومی طریقۂ کار کے مطابق ان سمیت دیگر اقدامات پر فعال طور پر غور کریں گے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھائے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی حمایت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اختیار کرے۔وزرائے خارجہ نے قرار دیا کہ اعلان کردہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016)، اور 19 جولائی 2024 کے عالمی عدالتِ انصاف کے مشاورتی فیصلےسے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں تمام ریاستوں کی یہ ذمہ داری بھی شامل ہے کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کو قانونی حیثیت نہ دیں اور اسرائیل کے قبضے سے پیدا شدہ صورتحال کو برقرار رکھنے میں کوئی مدد یا معاونت فراہم نہ کریں۔

اس حوالے سے وزرائے خارجہ نے ایک بار پھر اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ آبادکاری کی سرگرمیوں اور مقبوضہ فلسطینی علاقے کے جغرافیائی اور آبادیاتی تشخص کو تبدیل کرنے کے مقصد سے کیے گئے دیگر تمام اقدامات واپس لے۔وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ مقبوضہ فلسطینی علاقے کا ایک لازمی حصہ ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عمل درآمد کا مطالبہ کیا، تاکہ سلامتی اور استحکام یقینی بنایا جا سکے، انسانی صورتحال سے نمٹا جا سکے، تعمیرِ نو اور بحالی میں سہولت فراہم کی جا سکے اور پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔

وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد ہے،4 جون 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار، باہم متصل اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو، اور یہ سب بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہو۔

 

مزید خبریں