کاشتکا ر ’’سموگ کنٹرول پروگرام‘‘ کے تحت فصل کی باقیات کوجلانےسے سختی سے گریز کریں،زرعی ماہرین
کاشتکا ر ’’سموگ کنٹرول پروگرام‘‘ کے تحت فصل کی باقیات کوجلانےسے سختی سے گریز کریں،زرعی ماہرین

مزید خبریں
سرگودھا۔ 21 ستمبر (اے پی پی):زرعی ماہرین نے چاول کے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ ’’سموگ کنٹرول پروگرام‘‘ کے تحت فصل کی باقیات کوجلانےسے سختی سے گریز کریں۔ محکمہ زراعت (توسیع) کے ترجمان نے کہا کہ کسان نقصان دہ کیڑوں اور بیماریوں پر قابو پانے کےلیے صرف تجویز کردہ اور محفوظ کیڑے مار ادویات استعمال کریں اور ممنوعہ ادویات کے استعمال سے سختی سے اجتناب کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کیڑے مار دوا کے استعمال اور فصل کی کٹائی کے درمیان مقررہ وقفے کا لازمی خیال رکھا جائے تاکہ ‘زیادہ سے زیادہ باقی ماندہ مقدار’ (MRLs) کو قابلِ قبول حدوں کے اندر رکھا جا سکے اور پیداوار کی حفاظت اور مارکیٹ میں اس کی قبولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ جلد کاشت کی جانے والی چاول کی فصلیں اس وقت کٹائی کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ فصل کی کٹائی اس وقت کریں جب خوشے پر موجود سب سے اوپر والے دانے مکمل طور پر پک چکے ہوں جبکہ نچلے دو سے تین دانے بھر تو چکے ہوں لیکن قدرے سبز ہوں۔
انہوں نے کہا کہ کٹائی کے تجویز کردہ مرحلے پر دانوں میں نمی کا تناسب تقریباً 20 سے 22 فیصد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ کٹائی کے لیے ترجیحی طور پر ‘کوبوٹا’ (Kubota) رائس ہارویسٹر استعمال کریں، تاہم دانوں کے ٹوٹنے اور پیداوار و معیار کے نقصان کو کم کرنے کے لیے مناسب ترتیب کے ساتھ ‘کمبائن ہارویسٹر’ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو مزید مشورہ دیا کہ کٹائی کا عمل صبح کی اوس خشک ہونے کے بعد ہی شروع کریں، کیونکہ زیادہ نمی کی موجودگی میں کٹائی پیداوار کے معیار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ترجمان نے کسانوں کو خبردار کیا کہ وہ تازہ کٹی ہوئی دھان کے بڑے ڈھیر نہ لگائیں کیونکہ ایسی صورتحال میں ‘افلا ٹوکسن’ (aflatoxin) کی آلودگی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو چاول کے معیار، قیمت اور مارکیٹ میں قبولیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ ذخیرہ کرنے سے پہلے دھان کو اچھی طرح خشک کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ذخیرہ کرتے وقت اس میں نمی کا تناسب 12 سے 13 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔
فصل کی باقیات کے حوالے سے ترجمان نے واضح طور پر خبردار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سموگ کنٹرول پروگرام کے تحت چاول کی پرالی اور فصل کی دیگر باقیات کو جلانا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقیات کو جلانے سے نہ صرف مٹی میں موجود نامیاتی مادے اور مفید جاندار تباہ ہوتے ہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والا دھواں فضائی آلودگی اور سموگ میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سموگ انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کاباعث بنتی ہے اور اس سے حدِ نگاہ بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے ٹریفک حادثات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فصل کی باقیات جلانے پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کسانوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ پنجاب محکمہ زراعت کے مقامی ماہرینِ زراعت کے مشورے سے ‘سپر سیڈرز’ یا دیگر مناسب طریقوں کے ذریعے دھان کی باقیات کو ٹھکانے لگائیں۔








