ٹماٹر کی کاشت کے حوالے سے محکمہ زراعت نے نئی ہدایات جاری کر دیں

محکمہ زراعت نے پیداواری منصوبہ ٹماٹر 2026-27 میں کسانوں کو ٹماٹر کی بہتر پیداوار کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری میں کاشت کی جانے والی فصل جون تک تیار ہو جاتی ہے تاہم اس دوران گرمی بڑھنے کے باعث پیداوار کم اور نقصان کا امکان زیادہ ہوتا ہے

فیصل آباد۔ 22 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے پیداواری منصوبہ ٹماٹر 2026-27 میں کسانوں کو ٹماٹر کی بہتر پیداوار کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری میں کاشت کی جانے والی فصل جون تک تیار ہو جاتی ہے تاہم اس دوران گرمی بڑھنے کے باعث پیداوار کم اور نقصان کا امکان زیادہ ہوتا ہے، اس لیے نومبر میں کاشت کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔پرنسپل سائنٹسٹ سبزیات آری ڈاکٹر سجاد سعید نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں ٹماٹر کو میدانی اور پہاڑی، دونوں علاقوں میں مختلف اوقات پر کاشت کیا جا سکتا ہے۔ عام اقسام میں ”نادر” اور ”نقیب” نمایاں ہیں جو ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے تیار کی ہیں اور بیماریوں کے خلاف اچھی مزاحمت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہائبرڈ اقسام میں سہار F-1، سٹینل F-1، سوہیل F-1 اور شرف F-1 نمایاں ہیں، جبکہ نجی شعبے کی ”نیاب ٹماٹر ہائبرڈ نمبر 21” بھی خزاں کی فصل کے لیے موزوں قرار دی گئی ہے۔ انہوں نے بیج کی شرح کے حوالے سے بتایا کہ ایک ایکڑ کی نرسری کے لیے 70 سے 80 گرام بیج بہترین جبکہ 50 گرام بیج بھی قابلِ قبول نتائج دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی تیاری کے لئے ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا حل چلانا ضروری ہے اور پنیری کی منتقلی سے دو ماہ پہلے 8 تا 10 ٹن فی ایکڑ گوبر کی کھاد زمین میں ملا دینی چاہیئے اور زمین کو اچھی طرح ہموار کر یں۔انہوں نے کہا کہ کھیت کو ایک کنال کے کیاروں میں تقسیم کرکے ٹماٹر کی قسم کو مد نظر رکھتے ہوئے 4 تا 5 فٹ چوڑی پٹریاں بنائیں اور پودوں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں تاہم اگر پٹڑی کے دونوں اطراف فصل کاشت کرنا مقصود ہو تو پٹریوں کی چوڑائی 6 فٹ کر لیں۔