اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ آئی سی سی آئی 25 ستمبر 2026 کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل سٹیٹس کنونشن 2026‘‘ منعقد کرے گا
آئی سی سی آئی 25 ستمبر کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل سٹیٹس کنونشن‘‘ منعقد کرے گا،سردار طاہر محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔22ستمبر (اے پی پی):اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا ہے کہ آئی سی سی آئی 25 ستمبر 2026 کو ’’اسلام آباد گورننس اینڈ پروونشل سٹیٹس کنونشن 2026‘‘ منعقد کرے گا جس کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے گورننس ڈھانچے اور آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک جامع، بامعنی اور وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کرنا ہے۔چیمبر ہائوس میں منگل کو ایک بھرپور پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد آج بھی بنیادی طور پر 1960ء کے آرڈیننس کے تحت چلایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو صرف میئر کی نہیں بلکہ ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضرورت ہے جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو اور اپنے منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ ہو۔آئی سی سی آئی صدر نے اسلام آباد کے لیے ایک شفاف اور واضح مالیاتی نظام (Fiscal Framework) تشکیل دینے پر بھی زور دیا۔سردار طاہر محمود نے کہا کہ اسلام آباد کے حوالے سے اس وقت مختلف گورننس ماڈلز اور قانونی فریم ورک زیر بحث ہیں تاہم جن لوگوں اور اداروں پر یہ انتظامی نظام لاگو ہونا ہے، ان سے بامعنی اور وسیع البنیاد مشاورت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت 25 ستمبر کو منعقد ہونے والے کنونشن میں کاروباری برادری، تاجر تنظیموں، بار کونسلز و بار ایسوسی ایشنز، سول سوسائٹی، اکیڈمیا، پروفیشنلز اور اسلام آباد کے رہائشیوں سمیت تمام اہم سٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی آراء، تجاویز اور عملی سفارشات پیش کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کنونشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی طرح تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے سیاسی نمائندوں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ اسلام آباد کے گورننس کے معاملے پر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر وسیع تر قومی اور شہری مکالمہ کیا جا سکے۔سردار طاہر محمود نے واضح کیا کہ آئی سی سی آئی ایک غیر سیاسی اور غیر جماعتی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد کسی سیاسی جماعت یا کسی مخصوص گورننس ماڈل کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں، ہم چاہتے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک جگہ بیٹھیں، اپنی آراء پیش کریں اور اسلام آباد کے مستقبل کی گورننس کے لیے ایک بامعنی اور قابل عمل روڈ میپ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔








