پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 24 فیصد بڑھ کر 494 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 399 ملین ڈالر تھی۔
پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 24 فیصد اضافہ
اسلام آباد۔23ستمبر (اے پی پی):پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی)میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 24 فیصد بڑھ کر 494 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 399 ملین ڈالر تھی۔پلاننگ کمیشن کی ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں مالی سال کے ابتدائی دو ماہ کے دوران پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 100 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا جو ملک میں سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف اگست 2026 کے دوران پاکستان میں خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 316 ملین ڈالر رہی جس سے رواں مالی سال کے دوران مجموعی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کو ملک کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ہوتے ماحول سے جوڑا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے معاشی سرگرمیوں کے فروغ، کاروباری ماحول میں بہتری، سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے اور نجی شعبے کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کا بنیادی مقصد اسے حقیقی معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔حکام کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے ملک میں نئی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے، صنعتی شعبے کی استعداد بڑھانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کو معاشی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات میں مزید بہتری لانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ سرمایہ کاری کے ذریعے پائیدار اقتصادی ترقی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔









