محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو 30ستمبر تک پیاز کی پنیری کی کھیتوں میں منتقلی سے قبل زمین کو اچھی طرح تیار کرنے کی ہدایت

محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو 30ستمبر تک پیاز کی پنیری کی کھیتوں میں منتقلی سے قبل زمین کو اچھی طرح تیار کرنے کی ہدایت

سیالکوٹ۔ 23 ستمبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو 30ستمبر تک پیاز کی پنیری کی کھیتوں میں منتقلی سے قبل زمین کو اچھی طرح تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سمبڑیال ڈاکٹرافتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ کاشتکار زمین کی تیاری کے لئے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور بعد ازاں 2مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیا جائے اور اس میں 20کلو گرام یوریا کھاد ڈال کر زمین کو پانی لگا دیا جائے جبکہ وتر آنے پر زمین میں ہل چلا کر اسے سہاگہ سے نرم و ہموار کرلیا جائے تاکہ پیاز کی اچھی فصل حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار پیاز کی پنیری کی کھیتوں میں منتقلی کے وقت ایک سے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ ڈال کر 75 سے 80 سینٹی میٹر کے فاصلے پر کھیلیاں بنا لیں اور پودے کھیلیوں کے دونوں اطراف 10سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگانے کے بعد آبپاشی کاسلسلہ شروع کردیں۔ انہوں نے کہا کہ فصل کو7 سے8 دن کے وقفہ سے مسلسل 3مرتبہ پانی لگانا چاہیے تاہم اس کے بعد آبپاشی کا وقفہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنیری کی منتقلی کے 20سے25 روز بعد کھیتوں میں ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا کھاد فی ایکڑ ڈال کر آبپاشی کر دینی چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ کھیت میں نرسری کی منتقلی سے پہلے اسے پانی کی فراہمی روک دینی چاہیے تاکہ نرسری سخت جان ہو جائے اور پنیری کھیت میں منتقل کرتے وقت اس کی جڑوں کو ٹوٹنے سے بچایاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں مزید رہنمائی کےلئے ماہرین زراعت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیاجاسکتا ہے۔