بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے کہاہے کہ وسط مدتی لحاظ سے عالمی معاشی نمو کے امکانات کوڈھانچہ جاتی نوعیت کے متعددمسائل کا سامنا رہے گا، عالمی معیشت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی تبدیلیوں کے چیلنجز کاسامنا ہے۔
عالمی معیشت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی تبدیلیوں کے چیلنجز کاسامنا ہے،بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

مزید خبریں
اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے کہاہے کہ وسط مدتی لحاظ سے عالمی معاشی نمو کے امکانات کوڈھانچہ جاتی نوعیت کے متعددمسائل کا سامنا رہے گا، عالمی معیشت کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی تبدیلیوں کے چیلنجز کاسامنا ہے۔
یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی جانب سے جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں کہی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی جھٹکوں، جاری تنازعات اور عالمی تجارتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود 2025 میں عالمی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا،نجی شعبے کی فعالیت، مالیاتی و زرّی پالیسیوں کی معاونت اور ٹیکنالوجی سے متعلق سرمایہ کاری کے باعث عالمی معاشی نمو برقرار رہی جبکہ افراط زر میں بھی مسلسل کمی کا رجحان جاری رہا ان عوامل کے نتیجے میں 2026 کے آغاز پر عالمی معاشی نمو کی پیش گوئی میں معمولی بہتری کی گئی تاہم فروری کے اختتام سے شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی معاشی منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیاہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ جنگ سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات سب سے زیادہ مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے گئے، تاہم توانائی اور دیگر اجناس کی رسد کو پہنچنے والے دھچکے اور وسیع تر سپلائی چینز پر پڑنے والے اثرات سے دنیا کے دیگر خطے بھی متاثر ہوئے اور انہیں نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، نیا معاشی جھٹکا ایسے وقت میں سامنے آیا جب عالمی سطح پر سرکاری قرض پہلے ہی تقریباً ریکارڈ بلند سطح پر تھا، جس سے پالیسی سازوں کے لیے معاشی چیلنجز مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کے مطابق درمیانی مدت میں عالمی معاشی نمو کے امکانات کو ڈھانچہ جاتی نوعیت کے متعدد چیلنجز کا سامنا رہے گا، جن میں دنیا کے بیشتر حصوں میں آبادی کی بڑھتی ہوئی عمر ایک اہم عنصر ہے۔ اضافی معاشی جھٹکوں کے بغیر بھی یہ عوامل عالمی معیشت کی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں تاہم آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ معاون مالیاتی پالیسیاں اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری عالمی معیشت کو ان مشکلات سے عبور کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نتیجے میں پیداواری صلاحیت میں ممکنہ اضافہ عالمی معیشت کو مستقبل میں بلند تر شرح نمو کی راہ پر گامزن کرنے کا امکان رکھتا ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ ادارہ اپنے رکن ممالک کو بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات، مواقع اور خطرات سے نمٹنے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ممالک کو ان کی مخصوص ضروریات کے مطابق پالیسی مشاورت، استعداد کار میں اضافے اور مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے اور ممکنہ خطرات کا مو¿ثر انتظام کرنے کے قابل ہو سکیں۔







