انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانےکے لیے 6 دن باقی، 35لاکھ 30ہزار گوشوارے جمع کرائے جاچکے ہیں، ایف بی آر

ٹیکس سال2026کیلئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کاسلسلہ جاری ہے اوراب تک 35لاکھ 30ہزار سے زائد گوشوارے جمع کرائے جاچکے ہیں، ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس سال 2026 کے لیے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے 30 ستمبر تک لازمی جمع کرائیں۔

اسلام آباد۔24ستمبر (اے پی پی):ٹیکس سال2026کیلئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کاسلسلہ جاری ہے اوراب تک 35لاکھ 30ہزار سے زائد گوشوارے جمع کرائے جاچکے ہیں، ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس سال 2026 کے لیے اپنے انکم ٹیکس گوشوارے 30 ستمبر تک لازمی جمع کرائیں۔ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس گوشواروں کی فائلنگ کے ابتدائی مرحلے میں چند تکنیکی مسائل سامنے آئے تھے تاہم تمام مسائل کو چند گھنٹوں کے اندر حل کر دیا گیا اور 22 ستمبر تک مجموعی طور پر 35 لاکھ 30 ہزار گوشوارے جمع ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال اسی تاریخ تک جمع ہونے والے گوشواروں کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہیں۔

ایف بی آر نے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو فائلنگ کے دوران کسی بھی قسم کی مدد یا رہنمائی درکار ہو تو وہ ایف بی آر کی ہیلپ لائن سے رابطہ کر سکتے ہیں جہاں موصول ہونے والی شکایات کا بروقت ازالہ کیا جا رہا ہے۔ایف بی آر کے مطابق نان فائلر رہنے کی صورت میں مختلف مالی معاملات پر اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ فائلر بنیں، اپنی آمدنی اور اثاثوں کی درست تفصیلات فراہم کریں اور مقررہ وقت پر اپنا گوشوارے جمع کرائیں۔ رواں سال تاجر برادری کی مشاورت سے سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی سیل رکھنے والے چھوٹے دکانداروں کے لیے خصوصی ٹیکس سکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ سکیم کے تحت دکانداروں سے سالانہ سیل کا صرف ایک فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ کم از کم قابل ادائیگی ٹیکس 25 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔

چھوٹے دکانداروں کے لیے فائلنگ کا عمل بھی آسان بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے صرف ایک صفحے پر مشتمل سادہ گوشوارہ فارم فراہم کیا گیا ہے ۔ دکانداربھی ایف بی آر کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس دفتر کے ذریعے اپنا گوشوارہ آسانی سے جمع کرا سکتے ہیں۔ ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس سال 2026 کے لیے اپنے گوشوارے 30 ستمبر کی مقررہ آخری تاریخ سے قبل جمع کرائیں، آمدنی اور اثاثوں کی درست تفصیلات فراہم کریں اور واجب الادا ٹیکس کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں تاکہ اضافی ٹیکس کے بوجھ سے بچا جا سکے۔

 

مزید خبریں