پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور لمز سینٹر فار انٹرپرینیورشپ (ایل سی ای) کے اشتراک سے خدیجہ ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام کے تحت خواتین میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ، رہنمائی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا ۔ جمعہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق لمز کے ایل سی ای آڈیٹوریم میں منعقدہ سیشن میں کاروباری میدان میں قدم رکھنے کی خواہشمند خواتین، …
پاکستان سنگل ونڈو اور لمز کے اشتراک سے خواتین کی کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے لیےخصوصی سیشن منعقد

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) اور لمز سینٹر فار انٹرپرینیورشپ (ایل سی ای) کے اشتراک سے خدیجہ ویمن انٹرپرینیورشپ پروگرام کے تحت خواتین میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ، رہنمائی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے خصوصی سیشن کا انعقاد کیا گیا ۔ جمعہ کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق لمز کے ایل سی ای آڈیٹوریم میں منعقدہ سیشن میں کاروباری میدان میں قدم رکھنے کی خواہشمند خواتین، تعلیمی شعبے سے وابستہ رہنمائوں اور صنعتی ماہرین نے شرکت کی۔
سیشن کا مقصد کاروباری ترقی، ڈیجیٹل تجارت کے انضمام اور خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کو وسعت دینے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کرنا تھا۔سیشن میں لاما کی بانی و ڈائریکٹر آسیہ سائل خان، پرونٹو اسپیسز کے بانی سعودت صلاح الدین اور ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ڈبلیو سی سی آئی) لاہور کی بانی شیلا جاوید اکرم نے اہم رہنمائی فراہم کی۔لمز میں انٹرپرینیورشپ اینڈ انوویشن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شہریار شاہد نے کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے خصوصی تربیت بھی فراہم کی۔
انہوں نے کاروباری اداروں کی تشکیل میں ایل سی ای کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا ہےکہ تعلیمی انکیوبیشن اور منظم رہنمائی ابتدائی مرحلے کے کاروباری اداروں کی ترقی کو تیز کرنے میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہے۔مینٹورز نے مارکیٹ کی پیچیدگیوں کو سمجھنے، مضبوط اور پائیدار برانڈز کی تشکیل، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ اور کاروبار کو پائیدار بنیادوں پر وسعت دینے کے حوالے سے اپنے عملی تجربات شرکا کے ساتھ شیئر کیے۔ ان کی باہمی اور عملی رہنمائی سے کاروباری میدان میں آنے والی خواتین کو آپریشنل رکاوٹوں پر قابو پانے اور پاکستان کے بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے میں جدید کاروباری منصوبوں کو وسعت دینے کے حوالے سے شرکا کو اہم اسباق حاصل ہوئے۔
تجارت میں صنفی شمولیت کے فروغ کے اپنے مشن کے تحت پی ایس ڈبلیو کا خدیجہ پروگرام تعلیمی اداروں اور صنعتی کلسٹرز کے ساتھ مسلسل روابط کے ذریعے خواتین کاروباری افراد کو عالمی سطح پر مسابقت کے لیے درکار تکنیکی علم، ریگولیٹری سمجھ بوجھ اور ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کر رہا ہے۔اس اقدام کو تجارت میں صنفی مساوات کے حوالے سے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے گلوبل ایوارڈ سے بھی سراہا جا چکا ہے۔پی ایس ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید آفتاب حیدر نے نوجوان کاروباری خواتین پر مینٹورشپ کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کرنے والی خواتین کی اگلی نسل کو بااختیار بنانے کے لیے نہ صرف تکنیکی معلومات بلکہ بامعنی رہنمائی اور حقیقی صنعتی تجربات بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خدیجہ پروگرام کے تحت لمز کے ساتھ پی ایس ڈبلیو کا اشتراک خواہشمند خواتین رہنمائوں کو تجربہ کار کاروباری افراد سے منسلک کرکے کاروباری ترقی کو فروغ دینے کے عزم کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کو عملی مارکیٹ کا علم فراہم کرکے ایک جامع، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مستقبل کے لیے تیار تجارتی ماحولیاتی نظام کی بنیاد مضبوط کی جا رہی ہے۔ایل سی ای کے ڈائریکٹر جازب ظہیر نے پاکستان کی جامع معاشی ترقی کے لیے کاروباری اقدامات کے ذریعے شمولیت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خدیجہ پروگرام کے لیے پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ اس کے ذریعے عملی عناصر کو نصاب میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری سوچ، ڈیجیٹل مہارتیں، مصنوعات کی مارکیٹ سے مطابقت اور کاروبار کو وسعت دینے کی صلاحیت جدید کام کی جگہ پر کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری رہنمائوں اور انٹرپرینیورشپ ماہرین سے حاصل ہونے والی یہ عملی آگاہی خواتین کاروباری افراد کو اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے درکار مہارتیں اور اعتماد پیدا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔








