ٹیکس گزار قانون کے تحت حاصل سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ا پنی ذمہ داری کم کر سکتے ہیں ، ایف بی آر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ٹیکس گزاروں کو آگاہ کیا ہے کہ قانون کے تحت انہیں مختلف سہولتیں حاصل ہیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ قانونی طریقے سے اپنے ٹیکس کی ذمہ داری کم کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)نے ٹیکس گزاروں کو آگاہ کیا ہے کہ قانون کے تحت انہیں مختلف سہولتیں حاصل ہیں جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ قانونی طریقے سے اپنے ٹیکس کی ذمہ داری کم کر سکتے ہیں۔جمعے کو ترجمان ایف بی آر کے ایکس پر جاری جاری بیان کے مطابق رضاکارانہ پنشن سکیم (وی پی ایس )میں رقم جمع کرانے والے ٹیکس گزاروں کو قابلِ ٹیکس آمدنی کے 20 فیصد تک کی رقم پر ٹیکس کریڈٹ کی سہولت حاصل ہے جس سے انہیں مستقبل کے لیے بچت کے ساتھ موجودہ ٹیکس میں کمی کا فائدہ بھی مل سکتا ہے، یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 63 کے تحت دستیاب ہے۔

بیان کے مطابق اگر ٹیکس گزار کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 15 لاکھ روپے سے کم ہو تو بچوں کی ٹیوشن فیس کا 5 فیصد آمدنی سے منہا کیا جا سکتا ہے، تاہم ہر بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے تک کی حد مقرر ہے۔ یہ سہولت والدین میں سے فیس ادا کرنے والے کسی ایک فرد کو حاصل ہوگی۔ یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 60D کے تحت دی گئی ہے۔بیان کے مطابق اگر کسی ٹیکس گزار نے بینک یا کسی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر اپنا گھر خریدا یا تعمیر کیا ہے تو اس قرض پر ادا کیے گئے منافع پر ٹیکس کریڈٹ کی سہولت حاصل کی جا سکتی ہے، یہ سہولت ایک ذاتی گھر جس کا رقبہ 2500 مربع فٹ تک ہو یا ایک فلیٹ جس کا رقبہ 2000 مربع فٹ تک ہو، کے لیے دستیاب ہے۔

ایک مرتبہ یہ سہولت حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 سال تک کسی دوسرے گھر یا فلیٹ کے لیے یہ سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔ یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 63A کے تحت ہے۔ایف بی آر نے بتایا کہ منظور شدہ فلاحی اداروں، سرکاری ہسپتالوں، سکولوں یا یونیورسٹیوں کو دیے گئے عطیات پر بھی ٹیکس کریڈٹ حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم نقد عطیہ کراسڈ چیک کے ذریعے دیا جانا ضروری ہے۔ عطیات سے متعلق یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 61 کے تحت فراہم کی گئی ہے۔

بیان کے مطابق زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی زکوٰۃ قابلِ ٹیکس آمدنی سے منہا کی جا سکتی ہے، یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 60 کے تحت دستیاب ہے۔ایف بی آر نے کہا کہ اگر کسی ادارے کی جانب سے ملازم کو مفت علاج یا علاج کے اخراجات کی واپسی کی سہولت حاصل نہیں تو بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، یہ سہولت انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے دوسرے شیڈول کے حصہ اول کی شق 139 (b) کے تحت فراہم کی گئی ہے۔ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں کو مشورہ دیا ہے کہ پنشن سکیم اور عطیات کی رسیدیں اپنے ادارے میں جمع کرائیں تاکہ ہر ماہ تنخواہ سے کم ٹیکس کٹ سکے جبکہ دیگر دستیاب سہولتوں کا دعویٰ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 149 لاگو ہوتی ہے۔ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں پر زور دیا ہے کہ وہ قانون کے تحت دستیاب ٹیکس سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جلد از جلد جمع کرائیں۔ بورڈ نے واضح کیا کہ مذکورہ تمام سہولتوں کا حصول متعلقہ قانونی دفعات میں درج شرائط اور مقررہ حدود سے مشروط ہے۔

 

مزید خبریں