وزیرمملکت اور چیئرمین ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ پاکستان اگلی دہائی تشکیل دینے والی ٹیکنالوجیز کا محض غیر فعال صارف بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا،بروقت آگے بڑھتے ہوئے اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
پاکستان اگلی دہائی تشکیل دینے والی ٹیکنالوجیز کا محض غیر فعال صارف بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا، وزیرمملکت بلال بن ثاقب

مزید خبریں
اسلام آباد۔25ستمبر (اے پی پی):وزیرمملکت اور چیئرمین ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہاہے کہ پاکستان اگلی دہائی تشکیل دینے والی ٹیکنالوجیز کا محض غیر فعال صارف بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا،بروقت آگے بڑھتے ہوئے اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس کے موقع پراپنے ایک ویڈیوپیغام میں کہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ترقی پذیر معیشتیں اکثر عالمی ٹیکنالوجی کے مباحث میں اس وقت شامل ہوتی رہی ہیں جب ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی تشکیل پا چکا ہوتا اور اس کے معیارات بھی کوئی اور طے کر چکا ہوتا تاہم اب یہ صورتحال تبدیل ہونا شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج اقوام متحدہ میں پاکستان نے مالیاتی نظام کے مستقبل، بلاک چین، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک اہم مکالمے کے انعقاد میں معاونت کی جس میں ان بنیادی سوالات پر گفتگو ہوئی جو آنے والے وقت میں ہر ملک کے لیے بڑھتی ہوئی اہمیت کے حامل ہوں گے جن میں یہ شامل ہے کہ قدر کس طرح منتقل ہوگی، اثاثوں کی ڈیجیٹل نمائندگی کیسے ہوگی، سرمایہ تک رسائی کس طرح ممکن بنائی جائے گی، ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں خودمختاری سے کیا مراد ہوگی اور شہریوں کے تحفظ کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔وزیرمملکت نے کہاکہ ہمارا موقف واضح ہے کہ پاکستان اگلی دہائی کی تشکیل کرنے والی ٹیکنالوجیز کا محض غیر فعال صارف بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہمیں ان ٹیکنالوجیز کو سمجھنے، ان کے لیے موثر ضابطہ سازی کرنے، ان کے ذریعے تعمیر و ترقی کرنے اور اس امر میں عالمی سطح پر اپنی آواز شامل کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ٹیکنالوجیز کس سمت میں آگے بڑھیں گی۔انہوں نے کہاکہ قومی تشخص اور ملک کے بارے میں عالمی تاثر بالآخر عملی اقدامات سے تبدیل ہوتا ہے، جب پاکستان اپنی آراء اور تصورات پیش کرتا ہے، قابل اعتماد ادارے تشکیل دیتا ہے اور ان عالمی فورمز میں فعال شرکت کرتا ہے جہاں مستقبل کے نئے نظام وضع کیے جا رہے ہیں تو ملک کے بارے میں عالمی تاثر بھی اندرونی طور پر تبدیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مستقبل ہمارا انتظار نہیں کرے گا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بروقت آگے بڑھیں اور اقوام متحدہ جیسے عالمی فورمز پر مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں ۔








