عالمی نمائش صنعت کی مجموعی ترقی کے لئےاہم سنگ میل ثابت ہوگی ، چیئرمین پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن
عالمی نمائش صنعت کی مجموعی ترقی کے لئےاہم سنگ میل ثابت ہوگی ، چیئرمین پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن

مزید خبریں
اسلام آباد۔27ستمبر (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمن اور چیئرمین ایگزیبیشن ریاض احمد نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی 42ویں عالمی نمائش صنعت کی مجموعی ترقی ،نئے برآمدی مواقع پیدا کرنے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کے حوالے سے اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں 6 سے 8 اکتوبر تک منعقد ہونے والی عالمی نمائش کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ بارے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پیٹرن ان چیف عبد الطیف ملک، چیئرپرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن، سینئر ممبر عثمان اشرف، سعید خان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔چیئرمین نے کہا کہ عالمی نمائش کے انعقاد سے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، براہ راست خریداروں سے روابط اور برآمدی سودوں کے حصول کے حوالے سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نمائش پاکستان کےلئے لاکھوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کے امکانات پیدا کرے گی جبکہ نئے برآمدی آرڈرز ملنے سے پیداواری سرگرمیوں، روزگار اور صنعت سے وابستہ دیگر شعبوں کو بھی فروغ ملے گا۔
عالمی نمائش محض مصنوعات کی نمائش نہیں بلکہ پاکستانی قالین سازوں کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے، نئے خریدار تلاش کرنے اور طویل مدتی کاروباری معاہدوں کی بنیاد رکھنے کا موثرپلیٹ فارم ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عالمی خریدار ایک ہی چھت تلے پاکستانی مینوفیکچررز کی مختلف اقسام کے ہاتھ سے بنے قالینوں کا مشاہدہ کر سکیں گے ۔موجودہ عالمی مارکیٹ میں خریدار معیار کے ساتھ ساتھ ڈیزائن، پائیداری، ٹریس ایبلٹی اور ماحول دوست پیداواری طریقوں کو بھی اہمیت دے رہے ہیں اس لئے پاکستانی صنعت کو عالمی خریداروں کی بدلتی ترجیحات اور بین الاقوامی معیار کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خریداروں کے ساتھ براہ راست کاروباری روابط سے نہ صرف فوری برآمدی آرڈرز حاصل کرنے بلکہ آئندہ طویل مدتی معاہدوں کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نمائش کے نتیجے میں ہونے والے کاروباری روابط اور برآمدی سودے صنعت کے پیداواری حجم، روزگار اور زرمبادلہ کے حصول میں اضافے کا ذریعہ بنیں گے اور مجموعی طور پر صنعت کی ترقی کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی۔








