دھان کی فصل کے پتوں پر بھورے دھبوں کی بیماری، پتوں کے جراثیمی جھلساؤ، دھان کے بھبھکا یا بلاسٹ، دھان کی بکائنی اور تنے کی سڑن سے بچاؤ کیلئے کاشتکاروں کو پیسٹ سکاؤٹنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے
دھان کے کاشتکارکھیتوں میں گوبھ سے لیکرمونجر نکلنے کے 2 ہفتے بعد تک سوکا نہ لگنےد یں، کوشش کریں کہ کھیت گارہ کی حالت میں ر ہے،اسسٹنٹ ڈائریکٹر

مزید خبریں
فیصل آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی):دھان کی فصل کے پتوں پر بھورے دھبوں کی بیماری، پتوں کے جراثیمی جھلساؤ، دھان کے بھبھکا یا بلاسٹ، دھان کی بکائنی اور تنے کی سڑن سے بچاؤ کیلئے کاشتکاروں کو پیسٹ سکاؤٹنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ وہ دھان کی فصل کو سنڈیوں اور مختلف بیماریوں سے بچانے کیلئے کسی غفلت یاکوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں کیونکہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ان بیماریوں کا حملہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتاہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحکمہ زراعت توسیع فیصل آبادعامر صدیق نے کاشتکاروں کو آگاہ کیا کہ دھان کا بھبھکا ان کھیتوں میں زیادہ ہوتا ہے جہاں پانی کھڑا نہیں رہ سکتا لہٰذا ایسے کھیتوں میں گوبھ سے لے کر مونجر نکلنے کے2 ہفتے بعد تک سوکا نہ لگنے د یں بلکہ کوشش کریں کہ کھیت گارہ کی حالت میں ر ہے۔انہوں نے کہاکہ پتوں پر بھبھکا کی علامات ظاہر ہونے پر زرعی ماہرین کے مشورہ سے موزوں پھپھوندی کش زہر کا سپرے کریں اور 15دن کے وقفہ سے ضرورت کے مطابق دوبارہ سپرے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پتوں کے جراثیمی جھلساؤ کے حملہ کو کم کرنے کیلئے کھیت میں گوبھ سے لیکر پکنے تک وتر کا پانی لگائیں اور بیماری ظاہر ہونے پرکاپرآکسی کلورائیڈ بحساب 3گرام فی لیٹر پانی میں ملا کر فصل پر سپرے کریں۔ انہوں نے بتایاکہ1کلوگرام نیلا تھوتھا، 1کلوگرام اَن بجھا چونا اور 120لیٹر پانی کا بورڈ مکسچر بھی سپرے کیاجاسکتاہے۔انہوں نے بتایاکہ پوٹاش کا استعمال بیماری کے خلاف قوت مدافعت بڑھاتا ہے نیز دھان کے جراثیمی جھلساؤ سے بچاؤ کیلئے بیماری والے کھیت سے تندرست کھیت کو پانی نہ دیا جائے تاکہ بیماری کو پھیلنے سے بچایا جاسکے۔








