سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مائیکرو انٹرپرائزز اور رہائشی قرضوں کے لئے فنانسنگ کی حد بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی ہے
ایس ای سی پی کی چھوٹے کاروباروں اور رہائشی قرضوں کی حد بڑھانے کی تجویز
اسلام آباد۔29ستمبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے مائیکرو انٹرپرائزز اور رہائشی قرضوں کے لئے فنانسنگ کی حد بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ مائیکرو فنانس کے لئے اہل قرض لینے والوں کی سالانہ آمدن کی حد بھی 12 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔یہ تجاویز نان بینکنگ فنانس کمپنیز اینڈ نوٹیفائیڈ اینٹیٹیز ریگولیشنز، 2008 میں مجوزہ ترامیم کا حصہ ہیں جنہیں عوامی مشاورت کے لئے جاری کیا گیا ہے۔ ایس ای سی پی نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی درجہ بندی کے لئے سالانہ ٹرن اوور کی حدود پر نظرثانی بھی تجویز کی ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لئے موجودہ حد 15 کروڑ روپے تک ہے جسے 3 کروڑ سے 40 کروڑ روپے تک کرنے کی تجویز ہے۔ درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے موجودہ حد 15 کروڑ سے 80 کروڑ روپے ہے، جسے 40 کروڑ سے 2 ارب روپے تک کرنے کی تجویز ہے۔ مجوزہ حدود سٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہیں۔ایس ای سی پی کے مطابق ان تبدیلیوں سے نان بینکنگ فنانس کمپنیاں زیادہ قرض لینے والوں کو خدمات فراہم کر سکیں گی اور کاروبار، رہائش اور زراعت کے لئے فنانسنگ کی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکیں گی۔مجوزہ ترامیم ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ متعلقہ فریق 14 روز کے اندر اپنی آرا [email protected] پر بھجوا سکتے ہیں۔









