وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں،حکومت کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے
وزیراعظم کی زیر صدارت ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے اجلاس، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، محمد شہباز شریف

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں،حکومت کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس جمعہ کو منعقد ہوا۔اجلاس میں کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری کے فروغ اور ریگولیٹری نظام کو مزید موثر، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں، حکومت کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنے اور غیر ضروری ضابطہ کاری کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) میں اصلاحات کے ذریعے اسے جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے، اسی طرز پر دیگر ریگولیٹری اداروں میں بھی اصلاحات لائی جائیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری رجسٹری تشکیل دی جائے تاکہ ملک میں موجود تمام ریگولیٹری تقاضوں اور قواعد و ضوابط کو ایک جامع نظام کے تحت مرتب کیا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی کے لیے آسان کاروبار ایکٹ کو ملک بھر میں نافذ کیا جائے تاکہ تمام صوبوں میں ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا ہو اور کاروباری افراد کو یکساں سہولیات میسر آئیں۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ریگولیٹری اصلاحات کے اثرات اور افادیت کا جائزہ لینے کے لیے ان اصلاحات کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن بھی کرائی جائے تاکہ اصلاحات کے عملی نتائج کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار میں آسانی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے، سرمایہ کاروں کو سازگار اور سہل کاروباری ماحول فراہم کیے بغیر ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے کی گئی ریگولیٹری اصلاحات کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ کاروباری برادری ان اصلاحات سے آگاہ ہو اور ان سے بھرپور استفادہ کر سکے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایس آئی ایف سی کا وفد تمام صوبوں کا دورہ کرے اور صوبائی حکومتوں کو ریگولیٹری اصلاحات کے عمل میں اعتماد میں لے تاکہ ملک بھر میں کاروباری سہولت کاری اور ریگولیٹری نظام میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔وزیراعظم نے مشیر برائے صنعت ہارون اختر خان کو ہدایت کی کہ صوبوں کے دوروں کے لیے وفد کی قیادت کریں اور ریگولیٹری اصلاحات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کو یقینی بنائیں۔وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی کہ وہ کابینہ کی جانب سے منظور شدہ اصلاحات پر بروقت عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی اور چیف سیکریٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ مارچ 2027ء تک ای-بز پنجاب اور بی ایف سی اسلام آباد کے انضمام کا عمل مکمل کریں۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں کاروباری اداروں کو ٹھوس فوائد حاصل ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ایس آئی ایف سی کو ہدایت کی کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ فعال تعاون کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ فراہم کردہ سہولیات کے بارے میں موثر طریقے سے آگاہی دی جائے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔
اجلاس کو کاروبار میں آسانی کے حوالے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کو پنجاب حکومت کی ای-بز (E-BIZ) کی طرز پر جدید بنایا جا رہا ہے، ایکسپورٹ پالیسی آرڈر اور امپورٹ پالیسی آرڈر کو سہل بنایا جا رہا ہے۔ایس آئی ایف سی ریگولیٹری ریفارمز کے حوالے سے تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے رابطے میں ہے۔کابینہ کی ریگولیٹری ریفارمز کمیٹی نے 7 ملٹی سیکٹرز میں 557 ریفارمز کی منظوری دی ہے جس سے سالانہ 460 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ بی ایف سی سے 8717 درخواستوں پر عمل درآمد شروع کیا گیا جن میں سے 71 فیصد مکمل کی گئیں۔اسلام آباد بزنس فسیلیٹیشن مرکز سے 4612 نئے کاروباروں کو سہولیات فراہم کی گئیں ۔ایس آئی ایف سی ریگولیٹری ریفارمز کے ساتھ ساتھ پالیسی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی کام کررہی ہے ۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، مشیر وزیراعظم برائے صنعت ہارون اختر، وزیر برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔








