ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے کاروباری ماڈل پر نظرثانی ،ویلیو چین سسٹم کو عالمی رجحان کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت ،چیئر پرسن سی ٹی آئی
ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے کاروباری ماڈل پر نظرثانی ،ویلیو چین سسٹم کو عالمی رجحان کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت ،چیئر پرسن سی ٹی آئی

مزید خبریں
اسلام آباد۔4اکتوبر (اے پی پی):کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن اعجاز الرحمن نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کے کاروباری ماڈل پر نظرثانی اور ویلیو چین سسٹم کو عالمی رجحان کے مطابق بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منظم ویلیو چین کے ذریعے کم منافع اور غیر مربوط کاروباری طریقہ کار کو پائیدار اور زیادہ منافع بخش عالمی کاروبار میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی سی ایم ای اے کی ایگزیکٹو کمیٹی ناردن زون کے اراکین سے ملاقات میں گفتگو کے دوران کیا ۔
اس موقع پر کامران رضی، وسیم مختار اعوان ،افتخار طاہر، محمد عظیم بٹ، فیصل سعید خان، سید عمران حسین، مسز سکندرین حسن، اورنگزیب خان اور بشیر احمد سمیت دیگر موجود تھے۔ چیئرپر سن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اعجاز الرحمن نے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی مارکیٹ کا حجم17 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ پاکستان کو اپنا شیئر حاصل کرنے کیلئے بھرپور منصوبہ بندی اور حکمت عملی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی جس کے لئے ہر مرحلے میں معیار اور کارکردگی بہتر بنانا نا گزیر ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اعلی معیار کی اون اور قدرتی ریشم کی براہ راست فراہمی، ماحول دوست رنگوں کے استعمال اور خام مال کے معیار کو یقینی بنایا جائے،قالین کی تیاری کیلئے علاقائی پیداواری کلسٹرز قائم کرکے جدید کٹنگ، واشنگ اور فنشنگ سہولیات متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔اس اقدام سے معیار میں یکسانیت، بروقت فراہمی اور برآمد کنندگان کے منافع میں اضافہ ممکن ہوگا۔انہوں نے عالمی خریداروں تک براہ راست رسائی کیلئے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور عالمی بی ٹو بی نیٹ ورک کو فروغ دینے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نمائشیں پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کو براہ راست غیر ملکی خریداروں سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کی بھرپور پاسداری اورسرٹیفکیشن سے پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی ساکھ مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔انہوں نے قالینوں کی اصلیت اور دستکاری کی مکمل معلومات کیلئے کیو آر کوڈ اور ٹریس ایبلٹی سسٹم متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی ۔اعجاز الرحمن نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ ہفتے لاہور میں شروع ہونے والی 42ویں عالمی نمائش پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیلئے تقویت کا باعث ثابت ہو گی ۔








