محکمہ زراعت،بارانی علاقوں میں گندم کی زیادہ فی ایکڑ پیداوار کیلئے سفارشات جاری

محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کا وقت 15 اکتوبر تا15 نومبر ہے۔بارانی علاقوں کے کاشتکار بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے گہرا ہل چلائیں تاکہ بوقتِ کاشت وتر مہیا ہو سکے

لاہور۔5اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کا وقت 15 اکتوبر تا15 نومبر ہے۔بارانی علاقوں کے کاشتکار بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے گہرا ہل چلائیں تاکہ بوقتِ کاشت وتر مہیا ہو سکے۔بارانی علاقوں میں کم بارش والے علاقہ جات میں راجن پور،لیہ،ڈیرہ غازی خان،مظفر گڑھ، میانوالی،بھکر، خوشاب، جنڈ اور پنڈی گھیپ شامل ہیں۔بارانی درمیانی بارش والے علاقوں میں چکوال،تلہ گنگ اور پنڈ دادن خان جبکہ بارانی زیادہ بارش والے علاقوں میں راولپنڈی، اٹک، جہلم،سوہاوہ،ناروال، گجرات،کھاریاں اور شکر گڑھ کے علاقہ جات شامل ہیں۔بارانی علاقوں کے کاشتکار زمین کی تیاری شروع کریں۔اگر گلی سٹری کھاد ابھی تک نہ ڈالی ہو تو فورا ڈال لیں اور زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ بارانی علاقوں میں گندم کی کاشت کیلئے محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام شیراز23،مرکز19،ایم اے 21،نشان21،عروج 22،بارانی17،فتح جنگ16 اور پاکستا ن 13ہیں۔بارانی علاقوں کے کاشتکار گندم کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کیلئے صرف محکمہ زراعت پنجاب کی منظور شدہ اقسام کا40 تا50 کلوگرام تصدیق شدہ بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔گندم کی کاشت سے قبل بیج کو محکمہ زراعت توسیع کے مقامی ماہرین کے مشورہ سے زہرآلود کرلیں تاکہ گندم کی فصل کیڑوں سے محفوظ رہے۔گندم کی بوائی کیلئے بیج کو صاف کر کے استعمال کریں۔