پاکستان میں انکلوسو انشورنس کی وسیع گنجائش، ایس ای سی پی ٹاک سیریز

مائیکرو انشورنس سینٹر (ملیکین) کے ایم ڈی مائیکل جے میک کارڈ نے کہا ہے کہ پاکستان میں انکلوسو انشورنس کی بڑی مارکیٹ موجود ہے جو سماجی تحفظ اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے یہ بات ایس ای سی پی کی ٹاک سیریز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مائیکل میک کارڈ نے محروم طبقوں تک انشورنس کی رسائی پر زور …

اسلام آباد۔5اکتوبر (اے پی پی):مائیکرو انشورنس سینٹر (ملیکین) کے ایم ڈی مائیکل جے میک کارڈ نے کہا ہے کہ پاکستان میں انکلوسو انشورنس کی بڑی مارکیٹ موجود ہے جو سماجی تحفظ اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔انہوں نے یہ بات ایس ای سی پی کی ٹاک سیریز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مائیکل میک کارڈ نے محروم طبقوں تک انشورنس کی رسائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پراڈکٹس صارفین کی ضروریات کے مطابق، سستی اور سمجھنے میں آسان ہونی چاہئیں۔انہوں نے انڈسٹری کی ساکھ اور عوامی اعتماد کے لیے بروقت کلیمز کی ادائیگی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو ضروری قرار دیا۔

کمشنر انشورنس امتیاز حیدر نے کہا کہ مائیکرو انشورنس کم آمدن طبقے، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو مالی نقصان، بیماری یا ناگہانی آفات سے بچاتی ہے تاکہ انہیں اپنے اثاثے نہ بیچنے پڑیں۔ انہوں نے مناسب قیمت پر رسک پروٹیکشن کو مالیاتی شمولیت کے لیے لازمی قرار دیا۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے بتایا کہ کمیشن ریگولیٹری نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور سادہ پراڈکٹس کے ذریعے مارکیٹ کو وسعت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں زیر التواء ’انشورنس بل‘ شعبے کی جدید کاری اور ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔اجلاس میں انشورنس انڈسٹری، ڈویلپمنٹ سیکٹر کے نمائندوں، طلبہ اور ایس ای سی پی حکام نے شرکت کی۔