فیصل آباد چیمبر کے نومنتخب ایگزیکٹوز کو مثبت سوچ سے بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کیلئے کچھ نیا کرنا ہو گا،میاں محمد ادریس

فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب ایگزیکٹوز کو اپنی حدود اور ذمہ داریوں کا اداراک کرتے ہوئے مثبت سوچ سے بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کیلئے کچھ نیا کرنا ہو گا تاکہ اُن کی وجہ سے چیمبر، نیشنل گروپ اور خود اُن کی نیک نامی میں اضافہ ہو

فیصل آباد۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب ایگزیکٹوز کو اپنی حدود اور ذمہ داریوں کا اداراک کرتے ہوئے مثبت سوچ سے بزنس کمیونٹی کی بے لوث خدمت کیلئے کچھ نیا کرنا ہو گا تاکہ اُن کی وجہ سے چیمبر، نیشنل گروپ اور خود اُن کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔ یہ بات نیشنل گروپ کے سربراہ میاں محمد ادریس نے نئی ایگزیکٹو کیلئے منعقدہ ایک روزہ تربیتی اور آگاہی ورکشا پ کے اختتامی سیشن میں کوڈ آف کنڈٹ(Ethics and protocols) کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ عارف احسان ملک اس سال کیلئے صدر ہونے کے ناطے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں اس لیے آپ کو اپنی خداد اد صلاحیتوں کے مطابق معاون کے طور پر اُن کی ٹیم میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پورا شہر نئے عہدیداروں کی طرف دیکھ رہا ہے۔اُن کی کارکردگی کی بنیاد پر چیمبر اور نیشنل گروپ کی evaluationہو گی اِس لیے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے پورے ڈسپلن سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر بہت بڑ اا دارہ ہے جسے چلانے کیلئے صدر کو ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ صدر بزنس کمیونٹی، شہر اور پاکستان کیلئے ایگزیکٹو کی مشاورت اور قائمہ کمیٹیوں کے کنونیئرز کی سفارشات کے مطابق اپنی پالیسیاں اور اہداف کا تعین کرتا ہے جس کے بعد پور ا سال اِن کے حصول کیلئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر میں گزشتہ تیس سالوں سے نیشنل گروپ کا تسلسل چل رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ صدر اور قائمہ کمیٹیاں ایک سال کے بعد اپنے روڈ میپ پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ تشنہ تکمیل رہنے والے اہداف کے بارے میں تحریری طور پر نئے آنے والوں کو آگاہ کریں تاکہ پالیسیوں کے تسلسل سے نہ صرف بزنس کمیونٹی کے مسائل کو بہتر طور پر حل کیا جا سکے بلکہ اس شہر کی جامع، منظم اور مربوط ترقی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد چیمبر بزنس کمیونٹی کا قابل تکریم منتخب پلیٹ فارم ہے ،اس کیلئے منتخب ہونے والوں کو اپنی گفتگو، رہن سہن اور شخصیت کا بھی مکمل خیال رکھنا ہوگا تاکہ آپ کی وجہ سے اس ادارے کے وقار میں مزید اضافہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگوں کو ذاتیات سے بلند ہو کے اس شہر کی بے لوث خدمت کرنا ہو گی جبکہ ان اخلاقی، سماجی اور معاشرتی رویوں سے نہ صرف چیمبر بلکہ آپ کے اپنے کاروبار میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے تلقین کی کہ ایگزیکٹو ممبران نہ تو صدر کو بائی پاس کریں اور نہ اپنے عہدے کا غلط اور Unauthorizedاستعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ میں سے ہر ممبر اپنے مخصوص سیکٹر کی نمائندگی کرتا ہے آپ کو اپنے سیکٹر کے مسائل پر بحث و مباحثہ کے بعد ان کے حل کیلئے قابل عمل تجاویز بھی دینی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کی کارکردگی کو بھی ڈیجیٹلائز ہونا چاہیے تاکہ صدر ڈیش بورڈ پر آپ کی کارکردگی فوری طور پر دیکھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر سیاسی اور غیر منافع بخش ادارہ ہے،مذہبی اور اخلاقی طور پر بھی آپ کو چیمبر کے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا کیونکہ چیمبر کی آمدن دراصل پبلک منی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کو Confidentiality کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر کو اُن کی نامزدگی کے ساتھ ہی نیشنل گروپ کا منشور دے دیا گیا تھا۔ انہیں چاہیے کہ وہ سبکدوش ہونے والے صدر کی مشاورت کے ساتھ ساتھ آئندہ سال آنے والے صدر کو بھی On boardرکھیں تاکہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ایگزیکٹو میں زیادہ نوجوان اور تعلیم یافتہ ہیں اور انہیں توقع ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے بزنس کمیونٹی، چیمبر اور نیشنل گروپ کیلئے نیک نامی کا باعث بنیں گے۔

نیشنل گروپ کے لیڈر میاں جاوید اقبال نے چیمبر کی تاریخ اور اس کی لیڈر شپ کے تجربات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ چیمبر کی کوششوں سے نجی شعبہ کی پاکستان کی پہلی ڈرائی پورٹ فیصل آباد بنی جبکہ ویلیو ایڈیشن، گارمنٹ سٹی اور انڈسٹریل سٹیٹس کے قیام میں بھی اِس نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل گروپ کے تحت آنے والے ہر صدر نے اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کے اس شہر اور بزنس کمیونٹی کی خدمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی صدر دوبارہ نہیں آیا ہے۔ آپ میں سے جو بھی ممبر اپنی کارکردگی، ڈسپلن اور ٹیم ورک کی سپرٹ سے کام کرے گا وہ آنے والے دور میں چیمبر کی قیادت کا اہل قرار پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت کو اپنے لیے 5سے 6پراجیکٹ کا انتخاب کرنا چاہیے جن میں ائیر پورٹ، ایم تھری کا لنک روڈ اور ایکسپو سنٹر بھی ہو سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ جاتے وقت آپ اپنے نا مکمل کاموں کو باضابطہ طور پر آئندہ قیادت کے سپرد کر کے جائیں تاکہ جہاں آپ نے کام چھوڑا ہے وہ اِس کو آگے بڑھا سکیں۔آگاہی ورکشاپ سے ماسٹر ٹرینر ولی زاہد، سابق صدر رضوان اشرف، شبیر حسین چاولہ اور رانا محمد سکندر اعظم خاں نے بھی خطاب کیا اور ایگزیکٹو ممبران کے سوالوں کے جواب بھی دیے۔ آخر میں میاں محمد ادریس اور میاں جاوید اقبال نے صدر عارف احسان ملک کے ہمراہ ورکشاپ کے شرکا میں سر ٹیفکیٹ بھی تقسیم کیے۔ اس موقع پر سینئر نائب صدر میاں محمد سعید اور نائب صدر محمد یٰسین بھی موجود تھے۔