ارجنٹائن کے سفیر سیبا سٹین سایوس نے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ایرکا لوسرو کے ہمراہ گزشتہ روز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے دورہ کے دوران وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور اساتذہ سے ملاقات کی
ارجنٹائن کے سفیر کا ڈپٹی ہیڈ آف مشن کے ہمراہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا دورہ ، وائس چانسلر سے ملاقات
فیصل آباد۔ 05 اکتوبر (اے پی پی):ارجنٹائن کے سفیر سیبا سٹین سایوس نے ڈپٹی ہیڈ آف مشن ایرکا لوسرو کے ہمراہ گزشتہ روز زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے دورہ کے دوران وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی اور اساتذہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور ارجنٹائن کے تعلیمی و تحقیقی اداروں کے درمیان تعلیمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں بالخصوص زرعی تحقیق، تعلیم، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اساتذہ و طلبہ کے تبادلے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے زراعت اور غذائی تحفظ کو درپیش ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی گفتگو کی۔ اس موقع پر پاکستان میں ارجنٹائن کے سفیر سیباسٹین سایوس نے کہا کہ پاکستان اور ارجنٹائن کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے گا تاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے درپیش اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹ سکیں۔ سفیر سیباسٹین سایوس نے کہا کہ زراعت دونوں ممالک کی معیشتوں کا ایک اہم ستون ہے اور اس شعبے میں مزید تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے موجودہ راستوں کو وسعت دینے اور ایسے شراکت داری کے منصوبے تشکیل دینے کے خواہاں ہیں جن کے معاشی اور تکنیکی اثرات زیادہ نمایاں ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت، غذائی تحفظ اور زراعت کو زیادہ پیداواری اور پائیدار بنانے سمیت کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے زراعت اور متعلقہ شعبوں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ صنفی شمولیت مستقبل کی ترقی کا ایک اہم جزو ہے۔ ارجنٹائن کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ٹیکنالوجی (آئی این ٹی اے) کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر نے ارجنٹائن کے اداروں اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے درمیان مزید تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان اور ارجنٹائن کی زرعی شناخت مضبوط ہے اور دونوں ممالک کو موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، وسائل کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافے سمیت کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی اپنے بین الاقوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی روابط کو عملی تحقیق اور کھیت کی سطح پر قابلِ عمل حل میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم ارجنٹائن کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں دونوں ممالک علم، ٹیکنالوجی اور تجربات کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کے ساتھ تعاون سے مشترکہ تحقیق، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، استعداد کار میں اضافے اور زراعت میں جدت کے لیے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ایسی شراکت داری کو فروغ دیا جائے جس سے کسانوں کو عملی اور ٹھوس فوائد حاصل ہوں اور پائیدار زرعی ترقی اور غذائی تحفظ میں مدد ملے۔









