محکمہ زراعت نے چنے کی کاشت بارے اہم سفارشات جاری کر دیں

محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو چنے کی فصل کی بہتر پیداوار کے حصول کے لیے محکمہ کی سفارشات پر عملدرآمد اور بروقت کاشت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔چیف سائنسدان شعبہ دالیں ڈاکٹر خالد حسین نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں چنے کی کاشت کے لیے موزوں وقت مختلف ہے لہٰذا کاشتکار اپنے علاقے اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فصل کاشت کریں۔انہوں نے بتایا کہ اٹک اور چکوال …

فیصل آباد۔ 06 اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو چنے کی فصل کی بہتر پیداوار کے حصول کے لیے محکمہ کی سفارشات پر عملدرآمد اور بروقت کاشت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔چیف سائنسدان شعبہ دالیں ڈاکٹر خالد حسین نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں چنے کی کاشت کے لیے موزوں وقت مختلف ہے لہٰذا کاشتکار اپنے علاقے اور موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فصل کاشت کریں۔انہوں نے بتایا کہ اٹک اور چکوال کے علاقوں میں چنے کی کاشت 15 اکتوبر تک، گجرات، نارووال، جہلم اور راولپنڈی کے لیے 15 اکتوبر سے 10 نومبر تک جبکہ بھکر، خوشاب، میانوالی، لیہ اور جھنگ کے بارانی علاقوں میں یکم اکتوبر سے 20 اکتوبر تک موزوں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور وسطی و جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع میں کاشت کے لیے آخر اکتوبر سے 15 نومبر تک کا وقت موزوں قرار دیا گیا ہے، جبکہ بارانی علاقوں میں چنے کی کاشت ماہ اکتوبر تک جبکہ آبپاش علاقوں میں 20 اکتوبر سے 15 نومبر تک کاشت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چنے کی اچھی پیداوار کے لیے منظور شدہ اور بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والی اقسام کا انتخاب انتہائی ضروری ہے۔ کاشتکار اپنے علاقے کے مطابق محکمہ زراعت کی سفارش کردہ اقسام کاشت کریں تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جاسکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ چنے کی عام جسامت والی اقسام کے لیے شرح بیج 30 کلوگرام فی ایکڑ جبکہ موٹی جسامت والی اقسام کے لیے 35 کلوگرام فی ایکڑ رکھی جائے۔

کاشتکار چنے کی فصل میں بیج کی شرح پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مناسب اور معیاری بیج استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ چنے کی کاشت ٹیوب ویل یا آبپاشی کے مناسب انتظام والے رقبہ پر کرنے کی صورت میں بہتر پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ریتیلی اور میرا/درمیانی زمینوں میں کاشت کے لیے بھی مناسب سفارشات پر عمل کیا جائے، جبکہ زیادہ بارش والے علاقوں میں فصل کے لیے نکاسی آب کا مناسب انتظام ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ زمین کی تیاری اور بیج کی دستیابی سمیت تمام انتظامات بروقت مکمل کریں۔ آبپاش علاقوں میں ڈی اے پی یا نائٹرو فاس، یوریا اور ایس ایس پی کھادوں کا استعمال زمین کی ضرورت اور دستیاب سفارشات کے مطابق کیا جائے، جبکہ بارانی علاقوں میں دستیاب نمی کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں ڈی اے پی کھاد کا مناسب استعمال کیا جائے۔

 

مزید خبریں