باضابطہ بینکاری ذرائع سے ریٹیل ادائیگیوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ، 673 ٹریلین روپے مالیت کی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں،سٹیٹ بینک

باضابطہ بینکاری ذرائع سے ریٹیل ادائیگیوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ، 673 ٹریلین روپے مالیت کی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں،سٹیٹ بینک

اسلام آباد۔6اکتوبر (اے پی پی):باضابطہ بینکاری ذرائع سے ریٹیل ادائیگیوں میں گزشتہ مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ ہوا اور 673 ٹریلین روپے مالیت کی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں،باضابطہ بینکاری ذرائع سے کی گئی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز میں سے 13.2 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں۔یہ بات بینک دولت پاکستان کی جانب سے نظامِ ادائیگی کے سالانہ جائزہ میں کہی گئی ہے ۔ سالانہ جائزہ میں جس میں پاکستان میں ادائیگیوں کے منظرنامے میں مسلسل توسیع اور باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے ذرائع سے انجام دی جانے والی روزمرہ کی مالی ٹرانزیکشنوں میں ڈیجیٹل ذرائع کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اہم رجحانات، پیشرفتوں، اختراعات اور مالی ٹرانزیکشنوں کے اہم رجحانات کا عمومی جائزہ پیش کیا گیا ہے جنہوں نے مالی سال 2025-26 میں ملک میں ادائیگی کے باضابطہ ایکوسسٹم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔مالی سال 2025-26 میں ادائیگی کے منظرنامے میں تبدیلی کے عمل میں مضبوط پیشرفت جاری رہی جس میں صارفین ، کاروباری اداروں اور مالی اداروں کی جانب سے موبائل ایپس، انٹرنیٹ بینکاری، ای منی والٹس، کیوآر پر مبنی ادائیگیوں اور دیگر ڈیجیٹل چینلز کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا۔ اس نمو کو متعدد پالیسی اقدامات، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں بہتری اور بینکاری صنعت کے اقدامات سے تقویت ملی ہے۔مالی سال 26 کے دوران باضابطہ بینکاری ذرائع سے ریٹیل ادائیگیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جن میں 673 ٹریلین روپے مالیت کی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز انجام دی گئیں۔ یہ تعداد سال بسال حجم میں 58 فیصد اور مالیت میں 10 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ صارفین نے روزمرہ ادائیگیوں کے لئے موبائل بینکاری ایپس، انٹرنیٹ بینکاری اور ای منی والٹس کو تیزی سے اختیار کیا جس کے باعث ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال مسلسل بڑھتا رہا۔

باضابطہ بینکاری ذرائع سے کی گئی 14.3 ارب ٹرانزیکشنز میں سے 13.2 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں جو اس میں سال بسال 65 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔ مزید برآں مجموعی ریٹیل ٹرانزیکشنوں میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ 92 فیصد رہا جو مالی سال 25 میں 88 فیصد تھا۔ ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز میں موبائل فون پر مبنی مالی خدمات نمایاں رہیں جن کے ذریعے 11.1 ارب سے زائد ٹرانزیکشنز کی گئیں اور ان میں 79 فیصد اضافہ ہوا جبکہ انٹرنیٹ بینکاری پورٹلز کے ذریعے 0.3 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ تھیں۔مرچنٹس/ریٹیلرز آٹ لیٹس پر ڈیجیٹل قبولیت کے انفراسٹرکچر کی توسیع نے اس نمو کو مزید تقویت دی۔ پی او ایس نیٹ ورک 295,367مرچنٹ مقامات پر 337,791 ٹرمینلز تک پھیل گیا جس سے تقریبا 1.5 ملین یومیہ کارڈز ادائیگیوں میں مدد ملی جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ 1.0 ملین تھیں۔

ای کامرس ادائیگیوں میں بھی تیزی کا سلسلہ جاری رہا اور بینکاری ذرائع سے اکائونٹ پر مبنی آن لائن ادائیگیوں کا ای کامرس ٹرانزایکشنز میں حصہ96فیصد ہو گیا۔ برانچ لیس بینکاری موبائل ایپ صارفین کی تعداد 99.1 ملین تک پہنچ گئی جبکہ بینکوں کے موبائل ایپ صارفین کی تعداد 30.4 ملین تک ہو گئی ہے جو روزمرہ بینکاری سرگرمیوں کی سمارٹ فون پر مبنی پلیٹ فارمز کی طرف منتقلی کو اجاگر کرتا ہے۔ادائیگی کے انفراسٹرکچر میں ایک بڑی پیشرفت اگست 2025میں ہوئی جب پرزم پلس کو متعارف کرایا گیا۔ پرزم پلس نے آرٹی جی ایس نظام کوآئی ایس او 20022 معیار پر منتقل کیا۔ اس اپ گریڈ شدہ پلیٹ فارم کو ریٹیل اور بڑی مالیت کی ادائیگیوں کی پروسیسنگ کی کارکردگی، شفافیت، اور سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

نئے پرزم پلس نظام کے نفاذ کے ساتھ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں تھوک اور ریٹیل (فوری ادائیگی کا نظام) ISO 20022 کے معیار پر مبنی ہے ۔ سٹیٹ بینک ادائیگی کے محفوظ، موثر اور شمولیتی نظام کو فروغ دینے اور ملک کے مالی ڈھانچے کو ابھرتی ہوئی تکنیکی پیشرفتوں اور بین الاقوامی طریقوں کے مطابق ڈھالنے کے ساتھ ساتھ عوامی اعتماد، لچکداری اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے ۔

 

مزید خبریں