نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام، ہتھیاروں کی دوڑ اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانے پر زور

نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام، ہتھیاروں کی دوڑ اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانے پر زور

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام، ہتھیاروں کی دوڑ اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو کم کرنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں تنازعات کی روک تھام اور ثالثی کے طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، معاہدوں کے تحت عائد ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہئے، فلسطین کے مسئلے اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پُرامن حل اس عزم کے بنیادی امتحانات میں شامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو فارن سروسز اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نائب وزیراعظم نے کہاکہ دنیا کے مختلف خطوں میں اقوام متحدہ قومی سیاسی عمل کو سہولت فراہم کرتا ہے، جنگ بندی کے لئے ثالثی کرتا ہے اور امن معاہدوں کی حمایت کرتا ہے، جولائی 2022 میں ترکیہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ذاتی ثالثی سے طے پانے والے ’’بحیرہ اسود اناج اقدام‘‘ کے تحت اس کے عملی دورانیے میں 3 کروڑ 20 لاکھ ٹن سے زائد اناج اور دیگر غذائی اشیاء کی برآمد ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن دستے جنگ بندی برقرار رکھنے، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی حل کے لئے سازگار ماحول قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں، دنیا کے نمایاں فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس پر فخر ہے، ہمارے بہادر امن دستوں کے اہلکاروں نے اقوام متحدہ کے پرچم تلے امن کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اور ان کے اہلکار بھی ہماری گہری تحسین کے مستحق ہیں، غزہ، سوڈان یا کسی بھی ایسے خطے میں جہاں تنازعات، رکاوٹوں اور شدید ذاتی خطرات کا سامنا ہو، وہ زمینی سطح پر موجود رہتے ہیں، زندگی بچانے والی امداد فراہم کرتے ہیں اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہیں، ان کی جرأت کے ساتھ ان کے تحفظ، بلا رکاوٹ رسائی اور مناسب وسائل کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہئے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اسی طرح انسدادِ دہشت گردی بھی وہ شعبہ ہے جہاں اقوام متحدہ نے کثیرالجہتی اقدامات کی عملی اہمیت کو ثابت کیا ہے، پاکستان ان کوششوں میں ایک فعال شراکت دار رہا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے لئے اپنے وسیع تجربے اور پختہ عزم سے کام لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کو بھی خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے دفاع کے لئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اپنی مدتِ ذمہ داری کے دوران امن کے فروغ، ماحولیاتی اقدامات کو متحرک کرنے اور کمزور طبقات کے حقوق کے لئے مسلسل اور انتھک کوششیں کیں، ان کی قیادت نے مکالمے اور اجتماعی اقدامات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے،ہمارے لئے وہ حقیقی معنوں میں پاکستان کے ایک عظیم دوست رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تنازعات کی روک تھام اور ثالثی کے طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا، کثیرالجہتی نظام کے لئے پاکستان کا عزم ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے، فطری طور پر پاکستان اقوام متحدہ کا ایک مضبوط حامی اور پرجوش وکیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی مستقل بنیادوں پر پاسداری کی جائے، ریاستوں کی خودمختاری، برابری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت، طاقت کے استعمال یا اس کو دھمکی کی ممانعت اور حقِ خود ارادیت کا احترام کیا جانا چاہئے، معاہدوں کے تحت عائد ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہئے، فلسطین کے مسئلے اور جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پُرامن حل اس عزم کے بنیادی امتحانات میں شامل ہے، بین الاقوامی تعلقات میں سفارتکاری کو مرکزی حیثیت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں قرارداد 2788 سامنے آئی جو جولائی 2025 میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی گئی، یہ قرارداد 12 سال بعد منظور ہوئی اور اس نے تنازعات کے پُرامن حل کی بنیادی اہمیت کی توثیق کی، پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 47 سال بعد ایران اور متعلقہ فریقوں کے درمیان اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات، جنگ بندی اور اس کے بعد اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ممکن ہوا، جس پر رواں سال 18 جون کو دستخط کئے گئے، اس عمل نے خطے میں ایک تباہ کن عالمی بحران کو ٹالنے میں مدد دی۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح 2025 میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کے ذریعے غزہ امن منصوبے کے لئے ہماری حمایت بھی ان کوششوں کا حصہ ہے، یہ تمام اقدامات مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے لئے پاکستان کے عزم کا عملی مظہر ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور مؤثر انداز میں نتائج دینے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے،سلامتی کونسل میں اصلاحات کے ذریعے منتخب نمائندگی اور جوابدہی کو وسعت دی جانی چاہئے جبکہ مراعات، مستقل رکنیت اور ویٹو کے استحقاق کو محدود کیا جانا چاہئے، سب کے لئے اصلاحات، کسی کے لئے خصوصی مراعات نہیں، جنرل اسمبلی اور اقتصادی و سماجی کونسل کو بااختیار بنایا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر اصلاحات کے عمل کو ان تمام ستونوں کو مضبوط بنانا چاہئے جس کے لئے قابلِ پیش گوئی مالی وسائل اور تمام ضروری تعاون فراہم کیا جائے، ترقی، انسانی ہمدردی کی کارروائیوں، قیامِ امن اور امن کے استحکام کے لئے مستقل وسائل اور مسلسل سیاسی حمایت درکار ہے۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے غلط استعمال کی روک تھام، ہتھیاروں کی دوڑ اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو کم کرنا اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی نظام پر اعتماد مستقل طرزِ عمل، منصفانہ فیصلوں اور عملی نتائج کے ذریعے بحال کیا جا سکتا ہے، اقوام متحدہ کے وجود اور اس کی اہمیت کی سب سے مضبوط توثیق یہی ہے کہ اسے اپنے مینڈیٹ کی مؤثر تکمیل کے قابل بنایا جائے، اس کی بنیادی ذمہ داری رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے جنہیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، پاکستان ایسے عالمی نظام کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے جہاں تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جائے اور انصاف کے ذریعے امن کو پائیدار بنایا جائے۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خطاب کیا۔