پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے درمیان 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت اور 28 ماہ کی ریزلئینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت آر ایس ایف کے تحت پروگراموں کے بالترتیب چوتھے اور تیسرے جائزے پر سٹاف سطح کامعاہدہ ہوگیا ہے
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف اورآرایس ایف پروگراموں پرسٹاف سطح کامعاہدہ،ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد ای ایف ایف کے پاکستان کو ایک ارب ڈالر،آر ایس ایف کے تحت 210 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہو گی
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے درمیان 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت اور 28 ماہ کی ریزلئینس اینڈ سسٹین ایبلٹی سہولت آر ایس ایف کے تحت پروگراموں کے بالترتیب چوتھے اور تیسرے جائزے پر سٹاف سطح کامعاہدہ ہوگیا ہے ،معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے،ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈسہولت کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہوں گی۔وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت کے چوتھے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے اختتام پر آئی ایم ایف کی مشن چیف آئیوا پیٹرووا نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے اختتامی ملاقات کی ملاقات میں سیکرٹری خزانہ مسٹر امداد اللہ بوسال اور آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بنیشی بھی موجود تھے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری تفصیلی بیان کے مطابق ایوا پیٹرووا کی قیادت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ٹیم نے 23 ستمبر سے 7 اکتوبر 2026 تک کراچی اور اسلام آباد میں 2026 کے آرٹیکل IV مشاورتی عمل، توسیعی فنڈ سہولت کے تحت چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت تیسرے جائزے کے حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔مذاکرات کے اختتام پر مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بتایاکہآئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستان کے حکام کے ساتھ 37 ماہ کی توسیعی فنڈ سہولت اور 28 ماہ کی ریزلئینس وسسٹین ایبلٹی سہولت آر ایس ایف کے تحت پروگراموں کے بالترتیب چوتھے اور تیسرے جائزے پر سٹاف سطح کامعاہدہکر لیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈسہولت کے تحت تقریبا ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریبا 210 ملین ڈالر کی مالی معاونت دستیاب ہوں گی جس کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کوملنے والی مجموعی معاونت تقریباً 5.7 ارب ڈالرہوجائیگی۔انہوں نے کہا کہ ای ایف ایف کے تعاون سے پاکستان نے مشرق وسطی کے تنازع کے اثرات کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے جبکہ مضبوط پالیسیوں کے باعث ملکی معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں حقیقی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 4 فیصد رہی، تاہم توانائی کی بلند قیمتوں اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث معاشی رفتار کچھ کم ہوئی اور مالی سال 2026 میں شرح نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد لگایا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مئی میں بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد مجموعی مہنگائی میں کمی آئی اور ستمبر میں یہ تقریبا 10.3 فیصد رہی، جبکہ بنیادی مہنگائی بھی قابو میں رہی۔ مالی سال 2026 میں مضبوط ترسیلاتِ زر کی وجہ سے حسابات جاریہ کے کھاتوں میں مجموعی طور پرتوازن رہا جبکہ ستمبر کے اختتام تک سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر بڑھ کر تقریبا 21.5 ارب ڈالرہوگئے۔ خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی سے بھی پالیسیوں پر اعتماد میں اضافے کی عکاسی ہورہی ہیے تاہم جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاو، عالمی مالیاتی حالات میں سختی اور تجارت میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث خطرات بدستور بلند ہیں۔ آئی ایم ایف مشن چیف نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور مختلف نوعیت کے بیرونی جھٹکوں والے ماحول میں معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے حکومت کا مضبوط معاشی پالیسیوں پر کاربند رہنا انتہائی اہم ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈکے مطابق مالی سال 2027 کے بجٹ پر بھرپور عملدرآمد انتہائی اہم ہے، جس کی بنیاد جی ڈی پی کے 2 فیصد کے بنیادی پرائمری سرپلس پر رکھی گئی ہے۔ ٹیکس پالیسی اور محصولات کے انتظام سے متعلق اقدامات اس ہدف کی معاونت کریں گے اور سرکاری قرضے کو پائیدار بنیادوں پر کم کرنے میں مدد دیں گے۔ محصولات کے انتظام میں اصلاحات، جن میں خطرے کی بنیاد پر آڈٹ کا بہتر نظام، ڈیجیٹل انوائسنگ اور تھرڈپارٹی کے اعداد و شمار کا استعمال شامل ہے، محصولات کے اہداف کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں گی۔ درمیانی مدت کے لیے جامع ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی کے ذریعے نظام کو زیادہ منصفانہ، سادہ اور معاشی نمو کے لیے سازگار بنایا جانا چاہیے، جبکہ محصولات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان بجٹ سازی کے عمل، سرکاری سرمایہ کاری، خریداری اور حکومتی نقدی کے انتظام کی کارکردگی اور شفافیت بہتر بنانے کے لیے پبلک فنانشل مینجمنٹ کو مضبوط بنانے میں پیش رفت کررہاہے ، بلند مجموعی مالیاتی ضروریات کے ماحول میں قرضوں کی ری فنانسنگ کے خطرات اور قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کم کرنے کے عزم کے ساتھ ساتھ ملکی سرکاری سیکیورٹیز مارکیٹ کو مزید ترقی دینے اور سرمایہ کاروں کی بنیاد متنوع بنانے کے اقدامات بھی جاری رکھے جائیں گے۔ پاکستان نے صحت اور تعلیم کے اخراجات میں طویل مدتی کمی کے رجحان کو روک دیا ہے اور یہ اخراجات مالی سال 2024 میں جی ڈی پی کے 2.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 2.5 فیصد ہوگئے ہیں۔ حکومت مالی سال 2027 میں انہیں مزید بڑھا کر جی ڈی پی کے 2.8 فیصد تک لے جانے، اس پر عملدرآمد کی کڑی نگرانی اور ضرورت کے مطابق وسائل کی ازسرنو تقسیم کے لیے پرعزم ہے۔ہدفی نقد امداد میں مجوزہ اضافہ، مستحق افراد کے دائرہ کار میں مسلسل بہتری اور ادائیگیوں کے نظام کو مزید موثر بنانے کے اقدامات کم آمدنی والے اور معاشی طورپرکمزور گھرانوں کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط اور زیادہ جامع معاشی نمو میں معاونت فراہم کریں گے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مناسب طور پر سخت زری پالیسی برقرار رکھنی چاہیے تاکہ مہنگائی پائیدار بنیادوں پر اسٹیٹ بینک کے مقررہ ہدف کی حدود میں واپس آ سکے۔ شرح مبادلہ میں لچک کو بیرونی جھٹکوں کے اثرات جذب کرنے کے اہم ذریعے کے طور پر جاری رکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ، فارن ایکسچینج نظام میں بتدریج آزادی اور ملکی مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنا معاشی لچک بڑھانے اور نجی شعبے کی ترقی میں معاون ہوگا۔ آئی ایم ایف کے مطابق گردشی قرضے کے دوبارہ جمع ہونے سے روکنے کے لیے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور لاگت کم کرنے والی اصلاحات ناگزیر ہیں، جبکہ کمزور صارفین کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ترجیحات میں شعبے کی کارکردگی بہتر بنانا، بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا، بجلی کی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا، گیس کے شعبے میں لاگت کی وصولی برقرار رکھنا اور گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات میں کمی شامل ہیں،آرٹیکل IV مشاورت کے دوران معیشت کو زیادہ قدر رکھنے والی سرگرمیوں کی جانب منتقل کرنے اور اہم شعبوں میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کی گئی ان اصلاحات میں مسابقت کو مضبوط بنانا، ضابطہ جاتی اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنا، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا، سرکاری کاروباری اداروں کے نظم و نسق اور شفافیت کو بہتر بنانا، جبکہ گورننس اور انسداد بدعنوانی کے اداروں کو مضبوط کرنا شامل ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق سادہ اور منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرانے، انسانی وسائل اور سرمایہ کاری کے لیے سرکاری وسائل میں اضافہ، توانائی کے شعبے کو زیادہ لاگت موثر بنانے اور مالیاتی منڈیوں کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کے ساتھ یہ اصلاحات پیداواری صلاحیت بڑھانے، افرادی قوت میں شرکت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ، نجی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں۔ آئی ایم ایف مشن نے کہا ہے کہ آرایس ایف کے تعاون سے پاکستانی حکام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے مقابلے میں ملکی لچک بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں سرکاری سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں موسمیاتی عوامل کو شامل کرنا اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مالیاتی انتظام اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا شامل ہے مزید اصلاحات کے تحت آبپاشی کے پانی کی قیمتوں کے تعین اور وصولی، بجلی کی سبسڈی کو زیادہ ہدفی بنانے، توانائی کی بچت کے معیارات کے نفاذ اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کاربن کے اخراج میں کمی کے اقدامات آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا نے اسلام آباد اور کراچی کے دورے کے دوران پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی میزبانی اور نتیجہ خیز مذاکرات پر تشکرکااظہاربھی کیا ۔








