وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی پولٹری صنعت غذائی تحفظ، روزگار اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے
پولٹری صنعت کا عالمی منڈیوں میں مقام بنانے کے لیے برآمدی حکمت عملی ناگزیر ہے، ہارون اختر خان

مزید خبریں
لاہور۔8اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی پولٹری صنعت غذائی تحفظ، روزگار اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، صنعت نے دیہی علاقوں کو صنعت، لیبارٹری اور مارکیٹ سے جوڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پولٹری صنعت ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں بھی اپنا مقام بنائے اس کیلئے برآمدی حکمت عملی ناگزیر ہے ۔ جمعرات کو یہاں ایکسپو سنٹر میں انٹرنیشنل پولٹری ایکسپو 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کو ایسی پولٹری صنعت کی ضرورت ہے جو زیادہ موثر انداز میں پیداوار کرے، عوام کو سستی غذائیت فراہم کرے اور عالمی معیار پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلند پیداواری لاگت، بیماریوں، توانائی کے مسائل اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود پولٹری صنعت نے سرمایہ کاری اور پیداوار کا سلسلہ جاری رکھا جو اس کی استقامت اور قومی اہمیت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی پالیسیوں کو عملی نتائج اور پیداواری سرگرمیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور کاروبار میں سرمایہ کاری، صنعت میں توسیع اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہی حکومتی اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پولٹری صنعت کے لیے فیڈ اور دیگر ضروری خام مال کی بلاتعطل دستیابی یقینی بنانا ضروری ہے جبکہ سویا بین اور دیگر ضروری خام مال کی درآمد سے متعلق فیصلے واضح تقاضوں اور مقررہ مدت کے اندر کیے جانے چاہئیں تاکہ صنعت کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشیر صنعت و پیداوار نے کہا کہ پاکستان کو پراسیسڈ، پیکجڈ اور برانڈڈ حلال پولٹری مصنوعات کی عالمی منڈی تک رسائی بڑھانا ہوگی۔ حلال سرٹیفکیشن کے ساتھ بیماریوں کی نگرانی، عالمی معیار کی پروسیسنگ اور مصنوعات کی مکمل نگرانی کا نظام یقینی بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حیاتیاتی تحفظ پولٹری فارمز کے تحفظ کے ساتھ ساتھ برآمدی مواقع کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے جبکہ موثر کولڈ چین مصنوعات کے معیار اور پاکستانی برانڈز کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی پولٹری مصنوعات ایسی ہونی چاہئیں جنہیں عالمی خریدار معیار اور مسابقتی قیمت کی بنیاد پر دوبارہ منتخب کریں۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر برآمدات کے لیے عملی روڈ میپ تیار کیا جائے گا جس میں ترجیحی منڈیوں، ضروری منظوریوں، پیداواری استعداد اور متعلقہ ذمہ داریوں کا واضح تعین شامل ہوگا۔ہارون اختر خان نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، درست خوراک رسانی، جدید جینیات، بیماریوں کی بروقت تشخیص اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے پولٹری صنعت کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
بین الاقوامی شراکت داروں کو پاکستان میں ٹیکنالوجی، تربیت اور مقامی سپلائی چین کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ نوجوانوں کو حیاتیاتی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، غذائی سائنس اور کاروبار سمیت پولٹری صنعت کے مختلف شعبوں میں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور صنعت کےدرمیان مضبوط شراکت داری ہی پیداواری شعبے میں پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے، صنعتی مسائل کے حل کے لیے واضح ترجیحات، ذمہ داریوں کے تعین اور باقاعدہ پیروی کا موثر نظام ضروری ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے جہاں صنعتکار اگلے بحران کے بجائے اگلی دہائی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو ملک میں رہ کر پولٹری سمیت پیداواری شعبوں میں اپنا مستقبل تعمیر کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے اور آئی پیکس 2026 میں ہونے والی شراکت داریوں کو مستقبل میں پائیدار سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل ہونا چاہیے۔
آج کے فیصلے پاکستان کی صنعتی اور پیداواری صلاحیت کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راستہ معیاری، مسابقتی اور برآمدی پیداوار کے فروغ سے ہو کر گزرتا ہے، پاکستانی مصنوعات دنیا بھر میں اپنے معیار اور بہترین کارکردگی کے ذریعے ملک کی شناخت بننی چاہئیں۔







