عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو میناپ کے رپورٹنگ ریجن میں شامل کرنے کا فیصلہ انتظامی اور شماریاتی نوعیت کی درجہ بندی ہے، خرم شہزاد

وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزادنے کہاہے کہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) کے رپورٹنگ ریجن میں شامل کرنے کا فیصلہ انتظامی اور شماریاتی نوعیت کی درجہ بندی ہے

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ کے مشیر خرم شہزادنے کہاہے کہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) کے رپورٹنگ ریجن میں شامل کرنے کا فیصلہ انتظامی اور شماریاتی نوعیت کی درجہ بندی ہے، شماریاتی گروپ میں شامل ممالک کی فہرست تبدیل ہونے سے علاقائی تصویر بدل سکتی ہے لیکن اس سے زمینی حقائق یا لوگوں کی حقیقی معاشی حالت خود بخود تبدیل نہیں ہوتی ۔ جمعرات کوسماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (میناپ) کے رپورٹنگ ریجن میں شامل کرنے کا فیصلہ انتظامی اور شماریاتی نوعیت کی درجہ بندی ہے ،اس تبدیلی سے نہ تو پاکستان کی جغرافیائی حیثیت تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی بطور جنوبی ایشیائی ملک شناخت پر کوئی اثر پڑتا ہے،اسی طرح پاکستان کی آمدنی کے لحاظ سے درجہ بندی بھی تبدیل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہاکہ یہ فرق سمجھنا نہایت اہم ہے، کیونکہ کسی شماریاتی گروپ میں شامل ممالک کی تعداد یا ساخت تبدیل ہونے سے اس گروپ کے علاقائی اعداد و شمار بھی تبدیل ہو جاتے ہیں

پاکستان کی بڑی آبادی کو میناپ میں شامل کیے جانے کے بعد غربت، آبادی اور فی کس آمدنی سے متعلق علاقائی اشاریے لازماً مختلف نظر آئیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ان اعداد و شمار میں پاکستان کے اعداد بھی شامل ہوں گے۔خرم شہزادنے کہاکہ علاقائی اوسط عموماً آبادی کے تناسب سے نکالی جاتی ہے چنانچہ کوئی بڑا ملک اپنے اعداد و شمار کے ذریعے پورے علاقائی اوسط پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، پاکستان کی آبادی زیادہ تر مینا (ایم ای این اے) کی معیشتوں کے مقابلے میں بہت بڑی ہے، اس لیے اس کی شمولیت سے ان علاقائی اوسطوں میں واضح تبدیلی آنا فطری ہے مثال کے طور پر فرض کریں کہ ایک خطے کی آبادی 10 کروڑ ہے اور وہاں غربت کی شرح 10 فیصد ہے، یعنی ایک کروڑ افراد غربت کا شکار ہیں اب اگر اسی خطے میں مزید 10 کروڑ آبادی والا ایک ملک شامل کر دیا جائے جہاں غربت کی شرح 30 فیصد ہو، یعنی وہاں 3 کروڑ افراد غریب ہوں، تو پورے خطے میں غربت کی مجموعی شرح 20 فیصد ہو جائے گی ،اس سے دونوں ممالک میں کسی شخص کی معاشی حالت تبدیل نہیں ہوئی بلکہ علاقائی شرح صرف اس لیے دگنی ہوئی کیونکہ شماریاتی گروپ میں ایک نیا ملک شامل کر دیا گیا

لہٰذا یہ کہنا کہ اب مینا کے غریب افراد کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں رہتی ہے ایک گمراہ کن تاثر پیدا کرتا ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو خود اس شماریاتی خطے میں شامل کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس کی آبادی اور غربت سے متعلق اعداد و شمار بھی اب علاقائی مجموعوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہی احتیاط اس وقت بھی ضروری ہے جب نئی میناپ کی شماریات کا موازنہ ماضی کے مینا (ایم ای این اے) کے اعداد و شمار سے کیا جائے۔ علاقائی غربت میں بظاہر ہونے والا اضافہ لازماً ان ممالک کی معاشی حالت میں بگاڑ یا روایتی مینا ممالک میں غربت کے حقیقی اضافے کی بجائے جزوی طور پر پاکستان اور افغانستان کی شمولیت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔خرم شہزادنے کہاکہ اسی طرح عالمی بینککے جنوبی ایشیا کے رپورٹنگ گروپ سے پاکستان کے نکل جانے سے جنوبی ایشیا کے علاقائی اوسط اعداد و شمار بھی تبدیل ہوں گے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جنوبی ایشیا میں غربت اچانک کم ہو گئی ہے یا حالات بہتر ہو گئے ہیں علاقائی اعداد و شمار میں آنے والی کچھ تبدیلی محض اس وجہ سے ہو سکتی ہے کہ پاکستان اب اس مخصوص علاقائی مجموعے کا حصہ نہیں رہا اس لیے درست تشریح یہ ہے کہ پاکستان کو عالمی بینک کے میناپ رپورٹنگ ریجن میں دوبارہ تفویض کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ علاقائی درجہ بندیاں بنیادی طور پر تجزیاتی اور شماریاتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے اوزار ہیں انہیں جغرافیہ، معاشی ترقی یا قومی شناخت کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے اسلئے پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کے درمیان غربت کا موازنہ کرتے وقت بدلتی ہوئی علاقائی درجہ بندیوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار پر انحصار کرنے کے بجائے ملکی سطح کے اعداد و شمار، ایک ہی غربت کی حد اور ایک ہی حوالہ سال استعمال کرنا زیادہ درست طریقہ ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ بنیادی نکتہ بہت سادہ ہے کہ شماریاتی گروپ میں شامل ممالک کی فہرست تبدیل ہونے سے علاقائی تصویر بدل سکتی ہے، لیکن اس سے زمینی حقائق یا لوگوں کی حقیقی معاشی حالت خود بخود تبدیل نہیں ہوتی۔

مزید خبریں