پاکستان اور برطانیہ نے ترجیحی شعبوں میں تجارت اور تعاون کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے ذریعے ٹھوس نتائج کے حصول پر اتفاق کیا ہے۔جمعرات کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات میں سیکریٹری تجارت جواد پال اور وزارت تجارت کے سینئر حکام نے شرکت …
وفاقی وزیر تجارت سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، ترجیحی شعبوں میں تجارت اور تعاون کو مزید فروغ دینے، تجارتی مذاکرات کے ذریعے ٹھوس نتائج کے حصول پر اتفاق

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ نے ترجیحی شعبوں میں تجارت اور تعاون کو مزید فروغ دینے اور دوطرفہ تجارتی مذاکرات کے ذریعے ٹھوس نتائج کے حصول پر اتفاق کیا ہے۔جمعرات کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ ملاقات میں سیکریٹری تجارت جواد پال اور وزارت تجارت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر صحت و حیاتیاتی علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت و لائیو سٹاک، مالیاتی خدمات، ہوا بازی اور معدنیات سے متعلق خدمات کے شعبوں میں تجارت و سرمایہ کاری کے تعاون کو وسعت دینے پر غور کیا گیا۔برطانوی سفیر نے طویل مدتی، باہمی طور پر متفقہ شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ممکنہ شعبوں میں ریگولیٹری اصلاحات، تجارتی سہولت کاری، تعلیم و افرادی قوت کی مہارتوں میں بہتری اور سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت ہو سکے وفاقی وزیر جام کمال خان نے لائیو سٹاک کو تعاون کے اہم شعبے کے طور پر اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی لائیو سٹاک کے شعبے کو مضبوط بنانے، جانوروں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن اور گوشت کی برآمدات میں اضافے میں گہری دلچسپی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید لائیو سٹاک طریقوں کے فروغ اور مضبوط تجارتی روابط کے قیام میں برطانوی مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔برطانوی ہائی کمشنر نے خوراک کے تحفظ اور ریگولیٹری تقاضوں کو شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستانی مصنوعات تیار کرنے والے برطانیہ اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ملاقات میں صحت اور حیاتیاتی علوم سے متعلق ورکنگ گروپ کے ذریعے جاری تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔وفاقی وزیر نے پاکستانی مصنوعات کی بین الاقوامی سطح پر برانڈنگ کو مضبوط بنانے اور ملکی کاروباری اداروں کو بیرون ملک منڈیوں میں زیادہ مضبوط موجودگی قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں پاکستانی پنک سالٹ ، زیتون کے تیل، غذائی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور جراحی کے آلات کو معیاری یقین دہانی، ویلیو ایڈیشن اور موثر مارکیٹنگ کے ذریعے فروغ دینے کے مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے اپنی مصنوعات کے برانڈز تیار کرکے ان مصنوعات سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں جو پہلے ہی بین الاقوامی منڈیوں میں فراہم کی جا رہی ہیں۔
اس موقع پر پاکستانی غذائی کاروباری اداروں اور ریستوران برانڈز کے لیے برطانیہ میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کے مواقع پر بھی غور کیا گیا۔ دونوں اطراف سے ہوا بازی کے شعبے میں تعاون اہم موضوع رہا۔ برطانوی فریق نے ایئربس اور رولز رائس کے ساتھ جاری روابط کے بارے میں وزیر تجارت کو آگاہ کیا جن میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے طیاروں اور انجنوں کے ممکنہ انتظامات اور برآمدی قرضہ معاونت بھی شامل ہے۔ فوری فضائی بیڑے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے طیاروں کی لیزنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ طویل مدتی بنیادوں پر طیاروں کی خریداری کے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر جام کمال خان نے کہا کہ پی آئی اے کے براہ راست بین الاقوامی فضائی روٹس ایک اہم تجارتی فائدہ ہیں۔ انہوں نے مسافروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے خدمات کے معیار، پروازوں کی قابل اعتماد کارکردگی اور فضائی بیڑے کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی جانب سے جاری معاشی اصلاحات کی کوششوں کو سراہا جن میں ریگولیٹری اور ٹیکس اصلاحات بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے، پیداواری شعبوں کو ضروری خام مال اور اشیا تک وسیع تر رسائی فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیرف کو معقول بنانے کو اہم قدم قرار دیا۔
ملاقات میں اسلامی مالیات کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا جن میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے ساتھ مالیاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کی مقامی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تجربہ کار تکنیکی شراکت داروں، پیشہ ورانہ معدنیاتی تلاش کی خدمات اور مشترکہ منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا۔ برطانوی فریق نے معدنیات کے شعبے میں قانونی، مالیاتی، انشورنس اور دیگر معاون خدمات کے ذریعے ممکنہ تعاون کی نشاندہی کی اور منصوبہ بندی کے تحت ہونے والی معدنیات کانفرنس میں برطانوی کاروباری اداروں کی شرکت میں سہولت فراہم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا، اس سلسلے میں کاروباری، تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل مختلف پروگرام منعقد کرنے کی تجویز زیر غور آئی۔








