فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے 1.21 ارب ڈالر کے سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں پیش رفت سے عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا
آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ خوش آئند ہے، معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہوگا، عاطف اکرام شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے 1.21 ارب ڈالر کے سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام میں پیش رفت سے عالمی سطح پر پاکستان کی معیشت پر اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا۔ جمعرات کو جاری اپنے بیان میں عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد اب پاکستان کو تیزی سے پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھنا ہوگا۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور کرنٹ اکائونٹ کا متوازن رہنا معیشت کے لیے مثبت اشارے ہیں تاہم اصل چیلنج معاشی استحکام کو برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور گردشی قرضے کا خاتمہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، بجلی اور گیس کے نرخوں سے متعلق بروقت فیصلے ضروری ہیں تاہم اس کے ساتھ صنعت اور کاروبار کی مسابقتی صلاحیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ وسیع البنیاد ایندھن سبسڈی کے بجائے مستحق طبقات کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا زیادہ موثر ثابت ہوگا۔ مہنگائی میں کمی ایک مثبت پیش رفت ہے اور ضروری ہے کہ اس کے ثمرات عوام کو مستقل بنیادوں پر منتقل ہوں۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ روپے کی قدر میں استحکام کے ساتھ برآمدات کے فروغ کے لیے مسابقتی کاروباری ماحول ناگزیر ہے۔
نجکاری کے عمل میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے جبکہ نجی شعبے کی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ تجارتی اور ریگولیٹری رکاوٹیں کم کیے بغیر نجی سرمایہ کاری میں مطلوبہ اضافہ ممکن نہیں۔ معاشی اصلاحات کا تسلسل ہی پاکستان کو بیرونی مالی معاونت پر انحصار سے پائیدار خود انحصاری کی طرف لے جا سکتا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ جغرافیائی کشیدگی اور عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ناگزیر ہے۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر معاشی اصلاحات کو عملی کامیابی میں تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے زور دیا کہ آئی ایم ایف پروگرام کو حتمی منزل نہیں بلکہ معاشی خود انحصاری کی جانب ایک عبوری مرحلہ سمجھا جائے تاکہ پاکستان طویل مدت میں مضبوط، مستحکم اور خود کفیل معیشت بن سکے۔








