کاشتکارکماد کی فصل کو متاثرہونے سے بچانے کے لئے پانی کی کمی نہ آنے دیں،ماہرین زراعت
کاشتکارکماد کی فصل کو متاثرہونے سے بچانے کے لئے پانی کی کمی نہ آنے دیں،ماہرین زراعت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 08 اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت عدیل احمدنے کماد کے کاشتکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ کماد کی فصل کو پانی کی کمی نہ آنے دیں کیونکہ پانی کی کمی کی وجہ سے کماد کی فصل متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کماد کی فصل کو سال میں اوسطاً 16 مرتبہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر موسمی شدت اور فصل کی ضرورت کے مطابق کماد کی فصل کو سیراب کیا جائے تو گنے کی فی ایکڑپیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر تک فی ہفتہ اور نومبر سے فروری تک 6 سے 7 ہفتے تک پانی دینا نہایت ضروری ہوتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ کھاد ڈالنے کے بعد آبپاشی کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے بہترین فوائد اور مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ ستمبر کاشت کے لیے درمیانی زمین میں ساڑھے تین بوری یوریا، اڑھائی بوری ڈی اے پی، دو بوری ایس او پی / پونے دو بوری ایم اوپی یا ساڑھے چار بوری یوریا، ساڑھے چھ بوری ایس ایس پی (18)، دو بوری ایس او پی / پونے دو بوری ایم او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔
فاسفورس اور پوٹاش والی کھادوں کی پوری مقدار اور نائٹروجن کھاد کا چوتھا حصہ بوقت بوائی جبکہ بقیہ نائٹروجن کھاد کاتیسرا حصہ کاشت کے ایک ماہ بعد بالترتیب مارچ کے آخر اور اپریل میں مٹی چڑھاتے وقت ڈالیں۔انہوں نے کہا کہ بارشوں میں پانی کے تناسب کا خاص خیال رکھنا چاہئے کیونکہ ان ایام میں زیادہ پانی دینے سے گنے کو کیڑا لگنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گہری کھیلیوں میں کماد کی کاشت سے پانی کی 50 فیصد تک بچت اور شاندار پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار ستمبر کاشتہ کماد کو مناسب وقفہ پر پانی لگائیں اور جب کھیلیاں خشک ہو جائیں تو اسے فصل کے اگنے تک حسب ضرورت آبپاشی کی سہولت فراہم کی جاتی رہے تاکہ کماد کی اچھی پیداوار حاصل ہو سکے۔








