سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ستمبر میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ستمبر میں 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے رواں سال ستمبر کے دوران 5,241 نئی کمپنیاں رجسٹر کی ہیں، جس کے بعد ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی کل تعداد 317,002 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق نئی رجسٹریشنز میں سے 99.9 فیصد ایس ای سی پی کے ای-زی فائل (eZfile) پورٹل اور مربوط وفاقی و صوبائی نظاموں کے ذریعے آن لائن مکمل کی گئیں۔نئی قائم ہونے والی کمپنیوں میں سب سے بڑا حصہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کا رہا، جن کی تعداد 3,013 (57.5 فیصد) تھی جبکہ سنگل ممبر کمپنیوں کی تعداد 2,058 (39.2 فیصد) رہی۔ ایس ای سی پی نے 127 لمیٹڈ لائیبلٹی پارٹنرشپس (2.4 فیصد) اور سیکشن 42 کے تحت 29 ناٹ فار پرافٹ کمپنیاں (0.6 فیصد) بھی رجسٹر کیں۔ بقایا 14 اداروں (0.3 فیصد) میں 10 پبلک کمپنیاں، دو تجارتی تنظیمیں اور دو غیر ملکی کمپنیاں شامل تھیں۔
نئی رجسٹریشنز میں پنجاب 2,740 کمپنیوں (52.3 فیصد) کے ساتھ سرِ فہرست رہا، اس کے بعد اسلام آباد 1,009 (19.2 فیصد)، سندھ 790 (15.1 فیصد)، خیبر پختونخوا 428 (8.2 فیصد)، گلگت بلتستان 169 (3.2 فیصد) اور بلوچستان 105 (2.0 فیصد) کے ساتھ شامل رہے۔مختلف شعبوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں سب سے زیادہ 920 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جس کے بعد ٹریڈنگ (808)، سروسز (599)، کنسٹرکشن (339)، فوڈ اینڈ بیوریجز (239)، ٹورازم (222)، ریئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ (193)، ایجوکیشن (189)، ای کامرس (179) اور مائننگ اینڈ کوارینگ کی (127) شامل ہیں۔ دیگر شعبوں میں قائم ہونے والی کمپنیوں کی تعداد 1,426 رہی۔ستمبر کے دوران مختلف ممالک کے 167 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی نئی قائم ہونے والی کمپنیوں میں حصہ لیا۔ ان میں چین 113 سرمایہ کاروں کے ساتھ سب سے آگے رہا، اس کے بعد امریکا (7)، برطانیہ (6)، ہانگ کانگ (5)، سنگاپور (3) اور سعودی عرب کے (3)سرمایہ کار شامل ہیں۔
آسٹریلیا، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، جرمنی، کینیڈا، سپین، تھائی لینڈ اور افغانستان سے بالترتیب دو دو سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی تعداد 14 رہی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں میں 10 غیر ملکی کارپوریٹ ادارے (باڈی کارپوریٹس) اور بقایا انفرادی سرمایہ کار شامل تھے۔صنفی لحاظ سے جاری اعداد و شمار کے مطابق شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز میں خواتین کا تناسب 14 فیصد، الٹیمیٹ بینیفیشل اونرز (UBOs) میں 11 فیصد اور چیف ایگزیکٹوز میں 8 فیصد رہا جبکہ باقی تمام تناسب مردوں کا رہا۔چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ کمپنی کی رجسٹریشن ایک منظم اور دستاویز شدہ معیشت کی تشکیل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ہم رجسٹریشن کے عمل کو مزید آسان اور قابلِ رسائی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ کاروباری افراد اپنے کاروبار قائم کر سکیں اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔








