ریمانڈ کے بعد سیلز ٹیکس کیس کا فیصلہ 45 روز میں کرنا لازم ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 36(3) کے تحت ریمانڈ کے بعد ازسرنو کارروائی کا فیصلہ بھی مقررہ قانونی مدت میں کرنا لازم ہے، اپیلیٹ فورم کی جانب سے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے بھجوانے سے متعلقہ حکام کو غیر معینہ مدت تک کارروائی جاری رکھنے کا اختیار نہیں مل جاتا

اسلام آباد۔9اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 36(3) کے تحت ریمانڈ کے بعد ازسرنو کارروائی کا فیصلہ بھی مقررہ قانونی مدت میں کرنا لازم ہے، اپیلیٹ فورم کی جانب سے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے بھجوانے سے متعلقہ حکام کو غیر معینہ مدت تک کارروائی جاری رکھنے کا اختیار نہیں مل جاتا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کمشنر ان لینڈ ریونیو، لیگل زون، کارپوریٹ ٹیکس آفس لاہور کی جانب سے میسرز میکر وال کولریز لمیٹڈ کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریمانڈ کے بعد ازسرنو کارروائی کے لیے قانونی مدت کا آغاز ریمانڈ کے حکم کی تاریخ سے ہوگا جبکہ قانون کے تحت کسی جائز توسیع یا استثنا کی صورت میں متعلقہ رعایت بھی قابل اطلاق ہوگی۔جسٹس محمد شفیع صدیقی کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس ایکٹ کی متعلقہ دفعہ کے تحت مجاز افسر کو شوکاز نوٹس جاری ہونے کے 45 روز کے اندر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ تحریری وجوہات کی بنیاد پر مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے تاہم یہ توسیع کسی صورت 90 روز سے زیادہ نہیں ہو سکتی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ قانون میں مقررہ مدت کی پابندی لازمی ہے اور اس مدت سے تجاوز کرتے ہوئے جاری کیا گیا حکم قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ قانون کی مقرر کردہ مدت کو محض معقول وقت یا خصوصی حالات کی بنیاد پر بڑھایا نہیں جا سکتا۔فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ اپنے سابقہ فیصلوں میں واضح کر چکی ہے کہ قانونی مدت کا مقصد ٹیکس دہندگان کو غیر معینہ عرصے تک زیر التوا ٹیکس واجبات اور کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنا اور مقدمات کو مقررہ وقت میں حتمی انجام تک پہنچانا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ جب اپیلیٹ فورم کسی سابقہ حکم کو کالعدم قرار دے کر مقدمہ ازسرنو فیصلے کے لیے واپس بھجواتا ہے تو متعلقہ اتھارٹی کو قانون اور ریمانڈ کے حکم میں دی گئی ہدایات کے مطابق دوبارہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں نئی کارروائی کے لیے قانونی مدت ریمانڈ کے حکم کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق اپیلیٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو نے 10 مارچ 2001ء کو معاملہ ازسرنو فیصلے کے لیے واپس بھجوایا تھا تاہم متعلقہ حکام نے 31 دسمبر 2005ء کو نیا حکم جاری کیا۔ اس طرح ریمانڈ کے بعد فیصلہ کرنے میں چار سال، نو ماہ اور 21 روز کی تاخیر ہوئی جبکہ قانونی مدت میں توسیع بھی حاصل نہیں کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریمانڈ کے بعد کارروائی کے لیے کسی مدت کا اطلاق نہ ہونے کا موقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس سے قانون میں مقررہ مدت کی پابندی بے معنی ہو جائے گی اور متعلقہ حکام کو غیر محدود وقت میسر آ جائے گا۔عدالت نے قرار دیا کہ اپیلیٹ ٹربیونل نے نئے حکم کو مدت میعاد گزر جانے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے کر درست فیصلہ کیا جبکہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے محکمہ کے خلاف فیصلہ دینے میں بھی کوئی قانونی خامی ثابت نہیں ہوئی۔سپریم کورٹ نے محکمہ ان لینڈ ریونیو کی اپیل خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ریمانڈ کے بعد بھی قانونی مدت کی پابندی لازم ہے اور اس مدت سے تجاوز کرتے ہوئے جاری کردہ حکم کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔