وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے باوجود صوبائی حکومت کی ترجیحات عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے باوجود صوبائی حکومت کی ترجیحات عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں،دانیال چوہدری

مزید خبریں
راولپنڈی۔9اکتوبر (اے پی پی):وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے باوجود صوبائی حکومت کی ترجیحات عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ گزشتہ روز راولپنڈی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی صورت حال سب کے سامنے ہے، جہاں دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ وزیراعلیٰ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے بجائے لانگ مارچ اور سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 تاریخ کو چار کسٹمز اہلکار اور ایک پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ ایس ایچ او داؤد نے بھی ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔ ان واقعات کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے جس سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے تھا وہ دکھائی نہیں دیا۔ شہدا کے بچے سوال کر رہے ہیں کہ ان کے والد نے پاکستان کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کی لیکن صوبے کے وزیراعلیٰ ان کے اہل خانہ کی دلجوئی کے لیے کیوں نہیں پہنچے۔ شہدا کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں قربان کرنے والوں کو قومی سطح پر خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 15 برس کے دوران صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کون سی مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی اور انسداد دہشت گردی کی جامع پالیسی کے تحت کیا عملی اقدامات کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بھی ہیڈ محرر سمیت چار افراد کو اٹھائے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف صوبائی حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف کیوں سامنے نہیں آتا؟ دہشت گردوں کو دہشت گرد قرار دینے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لیے مزید کس بات کا انتظار کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کے ہاتھوں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ایک سنگین قومی مسئلہ ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی، سرحدی سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر رابطہ ناگزیر ہے۔ پولیس اہلکاروں کو جدید اسلحہ، حفاظتی سازوسامان اور ضروری وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دہشت گردوں کا مؤثر مقابلہ کر سکیں۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ قومی ایکشن پلان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک اہم قومی حکمت عملی ہے جس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے صوبے میں انسداد دہشت گردی کی پالیسی اور اعلیٰ سطحی اجلاسوں کی افادیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ محض اجلاسوں میں شرکت کافی نہیں بلکہ ان میں کیے گئے فیصلوں کے عملی نتائج عوام کو نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تمام سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔ عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ ان علاقوں میں بلاخوف سیاسی سرگرمیاں اور جلسے جلوس منعقد کر سکتی ہیں جہاں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک جماعت یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ایک طرف پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ سرگرمیاں جاری ہیں، سری لنکن ٹیم پاکستان میں موجود ہے اور مختلف ممالک کے وفود کی آمد متوقع ہے جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی کا دھرنا ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھانے، امن و امان کی صورت حال خراب کرنے اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو نقصان پہنچانے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد کے دوران امن کے قیام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اس لیے ملکی استحکام، معاشی سرگرمیوں اور بین الاقوامی روابط کو متاثر ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کرپشن، بدامنی اور دہشت گردی کے باعث پی ٹی آئی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں، اب دیگر سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر صوبے کو اس صورت حال سے نکالنے اور عوام کو موجودہ حکومت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا ہو گا۔








