لاہور میں سات غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی،21 غیر ملکیوں سمیت 281 افراد گرفتار

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے ایک ہفتے کے دوران سات غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران 281 افراد کو گرفتار کیا ہے،جن میں 21 غیر ملکی شہری اور 20 خواتین بھی شامل ہیں

لاہور۔9اکتوبر (اے پی پی):نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور زون نے ایک ہفتے کے دوران سات غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیوں کے دوران 281 افراد کو گرفتار کیا ہے،جن میں 21 غیر ملکی شہری اور 20 خواتین بھی شامل ہیں۔این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ان کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں مالی فراڈ، آن لائن ہراسانی اور ہنی ٹریپنگ کی شکایات پر کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ کارروائیوں کے دوران 362 موبائل فون، 191 کمپیوٹر سسٹم، 74 لیپ ٹاپ، 127 دیگر ڈیجیٹل آلات اور 550 سمیں قبضے میں لی گئیں۔ ان آلات کو فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔عاطف امیر نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بچوں سے متعلق فحش مواد کے مقدمات میں بھی 3 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حسن اکرم پر بچوں سے متعلق قابل اعتراض مواد شیئر کرنے، محمد فیضان احمد پر ایسا مواد اپ لوڈ کرنے جبکہ عمار پر واٹس ایپ گروپس کے ذریعے یہ مواد پھیلانے کا الزام ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف آن لائن جرائم کی نشاندہی اور تحقیقات بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے اداروں کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے گوجرانوالہ میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت ہوئی، جسے بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر نے بتایا کہ خواتین کو شادی کا جھانسہ دے کر قابل اعتراض مواد بنانے اور نجی تصاویر یا وڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کے مقدمات پر بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ صفدر حسین کو خواتین کو شادی کا جھانسہ دے کر قابل اعتراض مواد بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ایک دوسرے مقدمے میں ظہیر نامی شخص پر الزام ہے کہ اس نے چوری شدہ موبائل فون سے ملنے والی ایک خاتون کی نجی تصاویر کے ذریعے اسے بلیک میل کیا اور رقم وصول کرنے کی کوشش کی ۔انہوں نے شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد سے گزشتہ رات ایک اور مشتبہ شخص کی گرفتاری کی بھی تصدیق کی۔عاطف امیر نے بتایا کہ جاز کیش، ایزی پیسہ اور بینک اکائونٹس کے ذریعے ہونے والے مالی فراڈ کی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی فراڈ کے پانچ مقدمات اور 10 انکوائریوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 92 لاکھ 46 ہزار 240 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم کے مقدمات میں قبضے میں لیے گئے ڈیجیٹل آلات کا فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد جمع کرکے واقعات کی حقیقت معلوم کی جا سکے۔محمد رضوان کا موبائل فون فرانزک کے لیے حاصل کر لیا گیا۔قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان سے متعلق سوال پر عاطف امیر نے کہا کہ انہیں موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے حاصل کرنے کی غرض سے بلایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ محمد رضوان اپنا موبائل فون جمع کرا چکے ہیں اور فرانزک تجزیے کے بعد متعلقہ حقائق سامنے آئیں گے۔عاطف امیر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے کو منی لانڈرنگ سے متعلق ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں جبکہ سائبر جرائم کے بدلتے طریقوں سے نمٹنے کے لیے ادارے کے وسائل اور صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔مقدمہ درج کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے انکوائری مکمل کی جاتی ہے اور متعلقہ کمیٹی سے منظوری لی جاتی ہے، جس کے بعد مقدمہ درج ہوتا ہے۔ اس عمل میں بعض اوقات وقت لگ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی شکایات سننے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے لاہور زون میں ہفتے کے تین دن کھلی کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔عاطف امیر نے کہا کہ سائبر کرائم، مالی فراڈ، بچوں کے استحصال، آن لائن ہراسانی اور دیگر غیر قانونی ڈیجیٹل سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی جاری رہے گی۔