پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق (تمغہ امتیاز)نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے وسیع فوائد حاصل کرنے اور صنعتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کو چین کے شہر شینزن کی طرز پر اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک نے …
سی پیک کے ثمرات سے بھرپور استفادہ کے لیے ملک میں شینزن طرز کی اصلاحات ضروری ہیں، سی ای او پاکستان فرنیچر کونسل

مزید خبریں
لاہور۔11اکتوبر (اے پی پی):پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں کاشف اشفاق (تمغہ امتیاز)نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے وسیع فوائد حاصل کرنے اور صنعتی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پاکستان کو چین کے شہر شینزن کی طرز پر اصلاحات متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ اتوار کو یہاں پاکستان فرنیچر کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک نے اقتصادی تعاون کی نوعیت کو تبدیل کیا ہے اور اس میں پاکستان کی معیشت کو بحال کرنے اور ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے پر کامیاب عمل درآمد اس پروگرام کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے جبکہ اب یہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس میں صنعتی، زرعی، تکنیکی اور سائنسی شعبوں میں تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ وہ اہم شعبے ہیں جو پاکستان کی معیشت میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کا عمل تیز کرنا ہوگا تاکہ صنعت کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سے نہ صرف مالی وسائل پیدا ہوں گے اور بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ نوجوانوں میں بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل کے حل کے لیے لاکھوں کے قریب روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ چین کے شہر شینزن نے متعدد اختراعی طریقہ کار متعارف کرائے جن میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے24 گھنٹوں کے اندر سرکاری منظوری دینے کا نظام بھی شامل ہے۔ اس عمل کو تیز بنانے کے لیے ون ونڈو ماڈل متعارف کرایا گیا جس کے تحت تمام متعلقہ خدمات ایک ہی مقام پر فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شینزن نے ملازمتوں کے معاہداتی نظام کے تجربات بھی کیے جن سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے کاروباری ماحول کو مزید پرکشش بنانے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ چین میں ملازمتوں کے تحفظ کو اہمیت دیئے جانے کے باوجود ان اصلاحات نے سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ شینزن کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کو بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئیں جبکہ ٹیکس سے متعلق معاملات میں بھی ان کی معاونت کی گئی۔ اسی طرح درآمدات اور برآمدات کے لیے جدید تجارتی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کی فراہمی اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کے اہداف کے حصول کے لیے شینزن کے اس ماڈل کو اس کی اصل روح کے مطابق اپنانا چاہیے۔








