پائیدار معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی خوشحالی کے لیے سفارتی و کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، صدر آر سی سی آئی

پائیدار معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی خوشحالی کے لیے سفارتی و کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، صدر آر سی سی آئی

راولپنڈی۔ 11 اکتوبر (اے پی پی):راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کے صدر نوشروان خلیل خان نے کہا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی خوشحالی کے لیے سفارتی و کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، نجی شعبے، حکومتوں، سفارت کاروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے درمیان مؤثر روابط نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وہ اتوار کو مقامی ہوٹل میں اسمارٹ انٹرپرینیور سوسائٹی (ایس ای ایس) کے زیر اہتمام چوتھے ایس ای ایس ڈپلومیٹک نیٹ ورک اجلاس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

اجلاس کا موضوع ’’خوشحال مستقبل کے لیے پل تعمیر کرنا‘‘ تھا، جس میں سفارت کاروں، کاروباری شخصیات اور دیگر اہم مہمانوں نے شرکت کی۔نوشروان خلیل خان نے کہا کہ مکالمے، شراکت داری اور باہمی تعاون کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ چیمبرز آف کامرس نجی شعبے، حکومتی اداروں، سفارتی مشنز، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور عالمی کاروباری برادری کے درمیان روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ایسے اجلاسوں کے نتیجے میں دوطرفہ تجارت میں اضافہ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، روزگار کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کی صورت میں عملی نتائج سامنے آنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ آر سی سی آئی پاکستان کی کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے اور عالمی سطح پر ملکی معاشی مفادات کے فروغ کے لیے سفارتی تعلقات اور بین الاقوامی کاروباری روابط کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔اجلاس میں ازبکستان کے سفیر عالی مرتبت علی شیر تختائیف، آر سی سی آئی کے سابق صدر عثمان شوکت، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر طارق خان جدون سمیت سفارتی اور کاروباری حلقوں کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس کو سفارتی مشنز اور نجی شعبے کے درمیان بامعنی روابط کے فروغ، باہمی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے نئے امکانات تلاش کرنے کے حوالے سے اہم پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔

 

مزید خبریں