عالمی بینک کی جانب سے مالی سال 2026 میں ترقی پذیر معیشتوں کے لیے 112 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ متحرک ، پاکستان کیلئے 3.2ارب ڈالرکے مالیاتی وسائل حاصل

عالمی بینک نے مالی سال 2026ء کے دوران ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ متحرک کیا جو چار سال قبل کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے،پاکستان کے لیے 2022ء سے اب تک تقریباً 3.2 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ متحرک کیا گیا ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مالی سال 2022ء میں نجی سرمائے کو متحرک کرنے …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):عالمی بینک نے مالی سال 2026ء کے دوران ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ریکارڈ 112 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ متحرک کیا جو چار سال قبل کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ ہے،پاکستان کے لیے 2022ء سے اب تک تقریباً 3.2 ارب ڈالر کا نجی سرمایہ متحرک کیا گیا ہے۔عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق مالی سال 2022ء میں نجی سرمائے کو متحرک کرنے کا حجم 35 ارب ڈالر تھا، جو مالی سال 2026ء میں بڑھ کر 112 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا۔

عالمی بینک گروپ کی اپنی مالی معاونت کو شامل کرنے سے مالی سال 2026ء کے دوران ترقی پذیر معیشتوں کے لیے مجموعی مالی معاونت اور متحرک سرمائے کا حجم 200 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔اعلامیے کے مطابق نجی سرمائے کو متحرک کرنے میں اضافہ مختلف آمدنی والے ممالک میں دیکھا گیا۔ کم متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے یہ حجم مالی سال 2022ء کے 14 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 37 ارب ڈالر ہوگیا، جبکہ زیادہ متوسط آمدنی والے ممالک کے لیے یہ رقم 12 ارب ڈالر سے بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ کم آمدنی والے ممالک میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی مشکلات کے باوجود یہ حجم تقریباً 3 ارب ڈالر پر برقرار رہا، افریقہ میں بھی نجی سرمائے کو متحرک کرنے کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا، جو مذکورہ مدت کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 22 ارب ڈالر ہوگیا، جس سے تقریباً 150 فیصد اضافہ کی عکاسی ہورہی ہے۔

عالمی بینک گروپ نے ان نتائج کو گزشتہ تین سال کے دوران ادارہ جاتی اصلاحات سے منسوب کیا ہے، جن کا مقصد نجی شعبے کے ساتھ روابط بہتر بنانا، طریقہ کار آسان بنانا، سرکاری اور نجی شعبے کے آپریشنز کے درمیان رابطہ کاری مضبوط کرنا اور مالی معاونت و سرمایہ کاری کے ذرائع کو وسعت دینا ہے اس سلسلے میں ہر ملک میں سرکاری اور نجی شعبے کے آپریشنز کے لیے رابطے کا ایک مشترکہ مرکز متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ قومی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ مربوط ملکی حکمت عملیوں کی تیاری بھی شروع کردی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر انویسٹمنٹ لیب نے ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کی راہ میں حائل عملی رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے اقدامات وضع کرنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔

ان اقدامات میں کاروباری اور ضابطہ جاتی ماحول کو بہتر بنانا، ضمانتی سہولیات اور مقامی کرنسی میں مالی معاونت بڑھانا، زرمبادلہ سے متعلق مشکلات دور کرنا، ایکویٹی فنانسنگ کے مواقع میں اضافہ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بڑے پیمانے پر شمولیت ممکن بنانا شامل ہیں۔اعلامیہ کے مطابق عالمی بینک گروپ نے مالی سال 2026ء میں 25 ارب ڈالر سے زائد کی ضمانتیں جاری کیں، جس کے نتیجے میں وہ 2030ء تک سالانہ 20 ارب ڈالر کی ضمانتیں جاری کرنے کا ہدف مقررہ مدت سے چار سال قبل حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس پیش رفت میں عالمی بینک گروپ کے گارنٹی پلیٹ فارم نے اہم کردار ادا کیا، جسے 2024ء میں قائم کیا گیا تھا تاکہ صارفین اور سرمایہ کاروں کو ادارے کی مختلف ضمانتی سہولیات تک رسائی کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جاسکے۔

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا کہ تین سال قبل بینککے رکن ممالک اور صارفین نے واضح کیا تھا کہ عالمی بینک گروپ کی مالی معاونت اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ نجی سرمایہ متحرک کیا جائے اور نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری بہتر بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ادارے کے کام کرنے کے طریقہ کار کو تیز، آسان اور مربوط بنایا گیا رواں سال 112 ارب ڈالر کا سرمایہ متحرک کرنا اس تبدیلی کا نتیجہ ہے، تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ سرمایہ ایسے شعبوں میں لگایا جائے جہاں روزگار اور معاشی مواقع پیدا ہوسکیں۔ اس مقصد کے لیے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے اور ترقی پذیر معیشتوں کی جانب زیادہ سرمایہ منتقل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔اعلامیے کے مطابق روزگار کی فراہمی عالمی بینک گروپ کی مرکزی ترجیح ہے۔

آئندہ 10 سے 15 سال کے دوران ترقی پذیر معیشتوں میں 1.2 ارب نوجوانوں کے عمرِ روزگار کو پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ اس عرصے میں تقریباً 42 کروڑ ملازمتیں پیدا ہونے کا تخمینہ ہے، ان معیشتوں میں ہر 10 میں سے 9 ملازمتیں نجی شعبے سے وابستہ ہیں۔عالمی بینک گروپ کی روزگار سے متعلق حکمت عملی تین باہم مربوط عوامل پر مرکوز ہے، جن میں انسانی اورفزیکل بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، کاروبار کے لیے سازگار ضابطہ جاتی ماحول کی تشکیل اور نجی شعبے کی توسیع میں معاونت شامل ہیں۔ اس حکمت عملی کے تحت پانچ ایسے شعبوں کو ترجیح دی جارہی ہے جن میں روزگار پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ ان میں بنیادی ڈھانچہ اور توانائی، زرعی کاروبار، صحت، سیاحت اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ شامل ہیں۔

مالی سال 2026ء کے دوران عالمی بینک گروپ کی اپنی مالی معاونت اور متحرک کردہ سرمائے سمیت مجموعی مالی معاونت کا تقریباً 55 فیصد ان شعبوں کے لیے مختص کیا گیا، تاکہ نجی سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کو فروغ دیا جاسکے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ نجی سرمایہ کاری کم آمدنی والی معیشتوں تک بھی پہنچ رہی ہے، جہاں علاقائی اور مقامی سرمایہ کار کاروبار کی مالی معاونت اور روزگار پیدا کرنے کے لیے عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر کردار ادا کررہے ہیں۔

عالمی بینک گروپ نے اس پیش رفت کو مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنے اوریجینیٹ ٹو ڈسٹری بیوٹ اقدام کے تحت ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کی تعداد اور اقسام بڑھانے پر کام شروع کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے مواقع کو منظم انداز میں تیار کرکے بڑے پیمانے پر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں تک پہنچانا ہے، تاکہ طویل مدتی سرمائے کو ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے منسلک کیا جاسکے۔