مالی سہولیات کے غلط استعمال کی روک تھام، ایس ای سی پی نے گائیڈ بک جاری کر دی

مالیاتی اداروں کی جانب سے سخت اقدامات دہشت گردی کی مالی اعانت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ پاکستان کے مالیاتی نظام کی شفافیت کو محفوظ بنا سکتے ہیں

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی):مالیاتی اداروں کی جانب سے سخت اقدامات دہشت گردی کی مالی اعانت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ساتھ پاکستان کے مالیاتی نظام کی شفافیت کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔منگل کو سکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسی سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنے زیر انتظام اداروں کے لیے ٹارگٹڈ فنانشل سینکشنز (ٹی ایف ایس) پر ایک گائیڈ بک جاری کی ہے۔یہ گائیڈ بک اداروں کو ان کی قانونی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے عملی اقدامات فراہم کرتی ہے جن میں صارفین اور حقیقی مالکان کی پابندیوں کی فہرستوں کے مطابق سکریننگ، مشکوک ناموں کا جائزہ، نامزد افراد و اداروں کے اثاثے فوری منجمد کرنا اور بروقت رپورٹنگ شامل ہیں۔ اس میں واضح اندرونی طریقہ کار، باقاعدہ سکریننگ، مکمل ریکارڈ رکھنے، عملے کی آگاہی اور موثر کمپلائنس کنٹرولز پر بھی زور دیا گیا ہے۔نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے تعاون سے منعقدہ آگاہی سیشنز کے بعد جاری کی گئی یہ گائیڈ بک، پاکستان کے اینٹی منی لانڈرنگ اور کائونٹر ٹیررسٹ فنانسنگ (AML/CFT/PF) فریم ورک کی بہتر تفہیم اور نفاذ میں مدد دیتی ہے۔ اسے ایک عملی رہنما کے طور پر مروجہ قوانین کے ساتھ پڑھا جائے، کیونکہ یہ کسی موجودہ قانونی ذمہ داری کا متبادل نہیں ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایس ای سی پی کا مقصد مالی خدمات کے غلط استعمال کو روکنا، یکساں تعمیل کو فروغ دینا اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانا ہے۔

مزید خبریں