پاکستان اور کینیڈا کے مابین زراعت و تجارت کے شعبہ جات میں جاری تعاون میں مزید وسعت لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے غذائی استحکام و ترقی کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔
پاکستان اور کینیڈا کے مابین زراعت و تجارت کے شعبہ جات میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، کینیڈین ہائی کمیشن کونسلر

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 14 اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور کینیڈا کے مابین زراعت و تجارت کے شعبہ جات میں جاری تعاون میں مزید وسعت لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں تاکہ ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے غذائی استحکام و ترقی کے حصول کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس امر پر اتفاق کینیڈین ہائی کمیشن کے سیاسی، اقتصادی و تجارتی امور کے کونسلر ڈینیئل ارسینالٹ اور ٹریڈ کمشنر ذوہیب خان کا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی کے ساتھ میٹنگ میں کیا گیا۔ اجلاس میں موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والی زراعت، تجارت، پریسیئن ایگریکلچر، ڈیری فارمنگ کی جدید کاری اور خوراک کے ضیاع میں کمی کے امور زیر بحث آئے۔ ڈینیئل ارسینالٹ نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کو کینولا کے بیج فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے جی ایم کینولا کی درآمد پر پابندی ختم ہونے کے بعد کینیڈین کینولا کی برآمدات کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی زرعی تحقیق اور تکنیکی مہارت پاکستان میں پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا دالوں کی فراہمی اور جدید ڈیری فارمنگ میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ بین الاقوامی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے زرعی چیلنجز سے نبردآزما ہونے میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کی جدید ڈیری فارمنگ سے متعلق مہارت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس میں یونیورسٹی آف گیلف جیسے اداروں کا تجربہ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی تحقیق کے نتیجے میں مناسب غذائی انتظام کے تحت جانوروں کی خوراک میں کینولا شامل کرنے سے روزانہ دودھ کی پیداوار میں ایک لیٹر تک اضافہ ممکن ہے جس سے چھوٹے ڈیری فارمرز کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات اور قدرتی وسائل پر دباؤ کے پیش نظر زراعت کو جدید تحقیق اور پائیدار ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تعاون سے کسانوں کی آمدن بڑھانے، ڈیری و پولٹری کے شعبوں کو مضبوط بنانے اور زرعی مصنوعات کا معیار بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی اور کینیڈین جامعات، تحقیقی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تحقیق کے عملی استعمال سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور خوراک کے ضیاع میں کمی ممکن ہے۔








