روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں،پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہار خیال
روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں،پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہار خیال

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔15اکتوبر (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ اس کا موقف اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان مشن میں قونصلر محمد کامران تاج نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف اس پختہ یقین پر مبنی ہے کہ تنازعے کا حل بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین جنگ اور اس کے خطے اور اس سے باہر انسانی بحران سمیت دیگر متعلقہ اثرات پر مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔یہ اجلاس ”یوکرین بحران کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پوشیدہ پہلوئوں کو اجاگر کرنا“ کے موضوع پر منعقد ہوا۔ روس نے اسے سلامتی کونسل کے ارریا فارمولا (Arria-Formula) کے تحت منعقد کیا۔ارریا فارمولا اجلاس غیر رسمی ہوتے ہیں، جن میں سلامتی کونسل کے ارکان متعلقہ امور پر کھل کر اور نجی طور پر اپنے خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔
اس فارمولے کا نام اقوام متحدہ میں وینزویلا کے سابق سفیر ڈیاگو ارریا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ پاکستانی مندوب کہا کہ حالیہ دنوں میں جنگی کارروائیوں میں شدت نے اس جنگ سے متاثرہ شہری آبادی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جاری لڑائی کے نتیجے میں تمام شہریوں پر پڑنے والے غیر متناسب اثرات پر تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جانے چاہییں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ تمام فریقین کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم اس تنازعے کو جلد ختم کرنے اور ایک منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کرنے کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔ یہ حل اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق ہونا چاہیے، تمام متعلقہ فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو اور تمام اطراف کی سلامتی کے مفادات کو مدنظر رکھے۔








