محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو دھان کی کٹائی کے بعدپھنڈائی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت

محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو دھان کی کٹائی کے بعدپھنڈائی کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت

سیالکوٹ۔15اکتوبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ دھان کی کٹائی کے بعد جلد از جلد پھنڈائی کا عمل مکمل کریں اور فصل کو کھیت میں زیادہ دیر تک پڑا نہ رہنے دیں، کیونکہ کٹائی اور پھنڈائی کے درمیان وقفہ بڑھنے سے چاول کی ریکوری میں کمی واقع ہوتی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا ہے کہ دھان کی کٹائی کے موسم میں دن قدرے گرم اور راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں جبکہ اوس پڑنے کے باعث کھیت میں پڑی فصل بھیگ جاتی ہے اور دن کی دھوپ میں دوبارہ خشک ہو جاتی ہے۔

فصل کے بار بار تر اور خشک ہونے سے چاول کے دانوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں، جس سے دھان کی چھڑائی متاثر ہوتی ہے اور ثابت چاول کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جب دھان کے دانوں میں نمی کی مقدار 20 سے 22 فیصد رہ جائے تو فصل کٹائی کے قابل ہو جاتی ہے، لہٰذا کاشتکاروں کو چاہیے کہ کٹائی کے بعد جتنی جلد ممکن ہو پھنڈائی مکمل کرلیں۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ رات کے وقت دھان کے دانوں کو ترپال یا پرالی سے ڈھانپ کر رکھیں تاکہ انہیں اوس سے محفوظ رکھا جا سکے، کیونکہ بے احتیاطی سے پھنڈائی کرنے پر بڑی مقدار میں دانے ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھان کی کٹائی کے لیے مشینیں بھی استعمال کی جا سکتی ہیں، تاہم گندم کی کٹائی میں استعمال ہونے والی مشینیں بعض اوقات سبز، کمزور اور خالی دانوں سمیت پودوں کے سبز حصے بھی کاٹ لیتی ہیں، جس سے دھان میں نمی کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور فصل میں ملاوٹ کا امکان پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مشینی کٹائی کے دوران بعض دانوں کا چھلکا اتر جاتا ہے اور کچھ دانے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ زیادہ نمی کے باعث ایسی فصل کو ذخیرہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق مشینی کٹائی سے ایک اندازے کے مطابق 4 سے 6 فیصد تک ثابت چاول کی مقدار کم ہو سکتی ہے، جس سے چاول کی مجموعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔کاشتکارچاول کے معیار اور بہتر ریکوری کے حصول کے لیے دھان کی کٹائی، پھنڈائی اور ذخیرہ کرنے کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

مزید خبریں