برسلز۔15اکتوبر (اے پی پی):یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں پاکستان کےسفیر رحیم حیات قریشی نے اقوام متحدہ کو مرکزیت دینے والے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے حل طلب تنازعے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اوندرے دوستال اور مائیکل فان …
پاکستان عالمی امن اور استحکام کے لیے اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کے مرکزی کردار پر پختہ یقین رکھتا ہے،پاکستانی سفیر

مزید خبریں
برسلز۔15اکتوبر (اے پی پی):یورپی یونین، بیلجیم اور لکسمبرگ میں پاکستان کےسفیر رحیم حیات قریشی نے اقوام متحدہ کو مرکزیت دینے والے کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری کی توجہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور جموں و کشمیر کے حل طلب تنازعے کی جانب مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اوندرے دوستال اور مائیکل فان ڈیر شولن برگ کے زیر اہتمام ”عالمی نظم و نسق کا مستقبل“ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی نظام اور بین الاقوامی قانون سے متعلق پاکستان کے موقف کے اہم پہلوئوں کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی امن اور استحکام کے لیے اقوام متحدہ اور کثیرالجہتی نظام کے مرکزی کردار پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے معاہدوں اور بین الاقوامی سمجھوتوں کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہم ضرورت پر زور دیا اور اسے قواعد پر مبنی عالمی نظام کی بنیاد اور بین الاقوامی قانون کی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی قوانین کے منتخب اطلاق کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ دوہرے معیار عالمی قانون کی ساکھ کو کمزور کرتے اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ممالک کے باہمی تعلقات مساوی حقوق کے اصول پر استوار ہونے چاہییں۔ پاکستانی سفیر نے عالمی نظامِ حکمرانی میں اصلاحات کے لیے شمولیت اور انصاف کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اہمیت کے معاملات میں تمام متاثرہ فریقین کی آواز سنی جانی چاہیے اور ان کے موقف کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے ایک جامع بین الاقوامی مالیاتی نظام کے قیام، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور جدید ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں عالمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔ تقریب کے دوران پاکستانی سفیر نے عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں اور معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے بھارتی اقدام کی بھی نشاندہی کی۔ جمہوریہ چیک کے رکن یورپی پارلیمنٹ اوندرے دوستال نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔ پاکستان کے موقف کی مزید تائید کرتے ہوئے جرمن رکن یورپی پارلیمنٹ مائیکل فان ڈیر شولن برگ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد اور اس کی سختی سے پابندی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔








